உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایس بی آئی کے والٹس سے 11 کروڑ روپے کے سکے غائب، CBI نے تحقیقات کا کیا آغاز

    سی بی آئی

    سی بی آئی

    راجستھان ہائی کورٹ (Rajasthan high court) کی ہدایت پر سی بی آئی نے راجستھان پولس کے ذریعہ پہلے درج کی گئی ایف آئی آر کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایس بی آئی کی شاخ نے ابتدائی تحقیقات کے بعد رقم کی گنتی کرنے کا فیصلہ کیا جس میں بینک میں کیش ریزرو میں فرق ظاہر کیا گیا۔

    • Share this:
      سی بی آئی (CBI) نے راجستھان کے مہندی پور بالاجی میں ایس بی آئی کی شاخ کے والٹ سے 11 کروڑ روپے کے سکے غائب ہونے کے معاملے کی جانچ اپنے ہاتھ میں لے لی ہے، حکام نے پیر کو بتایا۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) نے راجستھان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ گمشدہ رقم 3 کروڑ روپے سے زیادہ تھی، جو ایجنسی کی طرف سے جانچ کی حد ہے۔

      راجستھان ہائی کورٹ (Rajasthan high court) کی ہدایت پر سی بی آئی نے راجستھان پولس کے ذریعہ پہلے درج کی گئی ایف آئی آر کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایس بی آئی کی شاخ نے ابتدائی تحقیقات کے بعد رقم کی گنتی کرنے کا فیصلہ کیا جس میں بینک میں کیش ریزرو میں فرق ظاہر کیا گیا۔

      مزید پڑھیں: Jobs in Telangana: تلنگانہ میں 80 ہزار نئی نوکریوں کا اعلان، لیکن پہلے سے وعدہ شدہ اردو کی 558 ملازمتیں ہنوز خالی!

      برانچ اکاؤنٹس کی کتابوں کے مطابق 13 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے سکوں کی گنتی کرنے کے لیے جے پور میں ایک پرائیویٹ وینڈر کو شامل کیا گیا۔ گنتی سے پتہ چلا کہ برانچ سے 11 کروڑ روپے سے زیادہ کے سکے غائب تھے۔ صرف 3,000 سکے کے تھیلوں کا حساب کتاب کیا جا سکا جس میں تقریباً 2 کروڑ روپے تھے اور انہیں RBI کی کوائن ہولڈنگ برانچ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

      مزید پڑھیں: TMREIS: تلنگانہ اقلیتی رہائشی اسکول میں داخلوں کی آخری تاریخ 20 اپریل، 9 مئی سے امتحانات

      ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ پرائیویٹ وینڈر کے ملازمین جو گنتی کر رہے تھے، 10 اگست 2021 کو رات کو اس گیسٹ ہاؤس میں جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے دھمکی دی گئی اور انہیں گنتی سے باز رہنے کو کہا گیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: