உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانپورمیں مسلم کی شہنائی سے رام لیلا کا ہوتا ہے آغاز تو پنجاب میں مسلمان کرتےہیں گردوارے کا تحفظ

    کانپور : موجودہ وقت میں جہاں ایک طرف شر پسند سیاست داں ملک کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں ، وہیں ملک میں ہندو مسلم قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی مثالوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

    کانپور : موجودہ وقت میں جہاں ایک طرف شر پسند سیاست داں ملک کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں ، وہیں ملک میں ہندو مسلم قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی مثالوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

    کانپور : موجودہ وقت میں جہاں ایک طرف شر پسند سیاست داں ملک کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں ، وہیں ملک میں ہندو مسلم قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی مثالوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      کانپور : موجودہ وقت میں جہاں ایک طرف شر پسند سیاست داں ملک کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں ، وہیں ملک میں ہندو مسلم قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی مثالوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔


      جہاں یوپی کے کانپور ضلع کے راوت پور گاؤں میں ایک مسلم کی شہنائی سے رام لیلا شروع ہوتی ہے تو وہیں پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں سکھ گرودوارے کی سیکورٹی کی ذمہ داری گاؤں کے مسلم نوجوانوں نے سنبھال رکھی ہے۔


      کانپور کے راوت پور گاؤں کے رام للا مندر کی رام لیلا کا آغاز سکندر خاں کی شہنائی سے ہوتا ہے۔ ڈیڑھ سو سال پرانے اس مندر میں سکندر خاں کی پانچ نسلیں دشہرے میلے اور رام لیلا کا شہنائی بجا آغاز کرتے آئی ہیں۔ سکندر خاں نے بتایا کہ ان کے دادا رمضانی، والد چھدن خاں وہ خود اور انکے بیٹے شانو خاں کی شہنائی سے ہی رام لیلا شروع کی جاتی ہے۔


      اس راوت پور گاؤں میں گزشتہ دنوں کچھ شر پسندوں نے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی تھی، جس کی وجہ سے کئی دن کرفیولگا تھا۔ اسی کے پیش نظر رام لیلا کمیٹی نے اس سال دشہرے میں ایسے کئی پروگرام شامل کیے ، جن میں گنگا تحفظ ، قومی یکجہتی اور بیٹی بچاؤ مہم شامل ہیں، تاکہ نفرت پھیلانے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔


      یہاں کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ ملک میں نفرت کی آگ پھیلا رہے ہیں انہیں ہمارے یہاں آکر محبت اور امن کا پیغام لے جانا چاہیے۔


      وہیں پنجاب کے مالیر کوٹلہ کے کوٹک پور گاؤں میں سکھ اور مسلمان مل جل کر گردواروں کی گرانی کررہے ہیں۔ ایک مقامی ڈاکٹر جلال نے بتایا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ ہم شر پسندوں کے منصوبوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھ اور مسلم بھائی چارہ کمیٹی کے ممبر20 سے 25 کی تعداد میں رات کو پہرہ دے رہے ہیں۔


      یہاں کے ہرونش سنگھ کا کہنا تھا کہ اس گرودوارے میں بھائی منی سنگھ کی لکھی وید ہے، جس کی کافی تاریخی اہمیت ہے۔ یہاں کے عمران محمد اور نرمل سنگھ نے کہا کہ وہ لوگ کبھی اپنے گاؤں کے بھائی چارے پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

      First published: