ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مودی بولتے اچھا ہیں، لیکن کرتے کچھ نہیں، انہیں حکومت چلانی نہیں آتی: کانگریس

نئی دہلی۔ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ وہ بولتے بہت اچھا ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں ہیں اور انہیں حکومت چلانی بھی نہیں آتی۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 16, 2016 07:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مودی بولتے اچھا ہیں، لیکن کرتے کچھ نہیں، انہیں حکومت چلانی نہیں آتی: کانگریس
نئی دہلی۔ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ وہ بولتے بہت اچھا ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں ہیں اور انہیں حکومت چلانی بھی نہیں آتی۔

نئی دہلی۔ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ وہ بولتے بہت اچھا ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں ہیں اور انہیں حکومت چلانی بھی نہیں آتی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر مودی کو صرف بولنا آتا ہے۔ وہ کام نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں حکومت صحیح طریقے سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر پا رہی ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ حکومت کس طرح چلتی ہے اور انتظامیہ کس طرح کام کرتی ہے۔


پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے احاطے میں صحافیوں اور جے این یو طلباء پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہوا اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ مسٹر مودی انتظامیہ چلانے کے قابل نہیں ہیں اور ان کی حکومت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایجنڈے پر آنکھ بند کر کے کام کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ جس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے وہ ایک طرح سے ایمرجنسی کی صورت حال ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی جمہوریت ہے۔ کیا وزیر اعظم اس طرح کے رویے کو جمہوریت مانتے ہیں۔ مسٹر سبل نے کہا کہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں کل جب بی جے پی ممبر اسمبلی او پی شرما کی قیادت میں غنڈے جے این یو کے طلباء اور صحافیوں پر حملہ کر رہے تھے تو دہلی پولیس کے اہلکار خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ بی جے پی حکومت ملک کے نوجوانوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے اور یہ جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد سے اسٹاک مارکیٹ کے حالات بگڑ گئے ہیں اور روپیہ مسلسل گر رہا ہے۔ مودی حکومت کی انہی ناكاميابيوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس سے منسلک تمام تنظیمیں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے تنازعے کو طول دے کر لوگوں کی توجہ بانٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ اس حکومت میں نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کس طرح چلتی ہے حکومت میں بیٹھے لوگوں کو اس کی معلومات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعجب کی بات ہے کہ وزیر داخلہ فرضی ٹویٹ کی بنیاد پر دعوی کرتے ہیں کہ پاکستان میں بیٹھا انتہا پسند حافظ سعید جے این یو کے طلباء کی حمایت کر رہا ہے۔

First published: Feb 16, 2016 07:56 PM IST