உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی دلتوں پر ہورہے مظالم کے خلاف لب کشائی کریں: اپوزیشن

    نئی دہلی۔  وزیر اعظم نریندر مودی پر پسماندہ طبقات اور قبائلیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن نے آج کہا کہ موجودہ حکومت اس طبقے کی تعمیر نو کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔

    نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر پسماندہ طبقات اور قبائلیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن نے آج کہا کہ موجودہ حکومت اس طبقے کی تعمیر نو کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔

    نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر پسماندہ طبقات اور قبائلیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن نے آج کہا کہ موجودہ حکومت اس طبقے کی تعمیر نو کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  وزیر اعظم نریندر مودی پر پسماندہ طبقات اور قبائلیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن نے آج کہا کہ موجودہ حکومت اس طبقے کی تعمیر نو کے لئے سنجیدہ نہیں ہے اور ان سے منسلک فلاحی منصوبوں کے بجٹ کا پورا استعمال نہیں کر رہی ہے۔ سماجی انصاف اور دائرہ اختیار کی وزارت کی 17-2016 کی گرانٹ مطالبات پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے سنتوش سنگھ چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی دلتوں پر ہونے والے ظلم کے واقعات پر خاموش رہتے ہیں۔ وہ ان واقعات پر ایک لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے ظالموں کے حوصلے بڑھ
      رہے ہیں اور اس طرح کے واقعات کی روک تھا م مشکل ہوگئی ہے۔


      انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کی فلاح و بہبود کے لئے متعدد فلاحی منصوبے شروع کئے گئے ہیں لیکن مودی حکومت نے ان تمام منصوبوں کے لئے بجٹ میں کمی کر دی ہے۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو پیسہ اس طبقے کی تعمیر نو کے لئے دیا جا رہا ہے اس کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ اس لئے حکومت کو بجٹ کا استعمال یقینی بنانا چاہئے اور اس کے لئے قانون بھی وضع کئے جانے چاہئیں۔ مسٹر چودھری نے کہا کہ دلت بہبود کی اسکیموں کا نفاذ زمین پر نہیں ہو رہا ہے۔ منصوبے صرف کاغذوں تک ہی محدود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی روزگار گارنٹی اسکیم منریگا شروع کی تھی جس کا اس طبقے کے لوگوں کو بڑ ے پیمانے پر فائدہ حاصل ہوا۔


      مسٹر چودھری نے کہا کہ اس طبقے کے لئے جو پیسہ مختص کیا گیا ہے اس کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ میٹرک سے پہلے اس طبقے کے طالب علموں کو اسکالر شپ دی جاتی ہے تاکہ اس طبقے کے بچوں کو اسکول نہیں چھوڑنا پڑے لیکن حکومت نے اس منصوبہ بندی کے الاٹمنٹ میں بھی کٹوتی کی ہے۔ اسی طرح سے میٹرک کی پڑھائی کے بعد اس کمیونٹی کے بچوں کو تعلیم کے مواقع حاصل رہیں لیکن ان کے مفاد کے لئے جاری الاٹمنٹ میں بھی کمی کی گئی ہے۔ ترنمول کانگریس کے سومتر مہاجن نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت جنگل محل علاقے میں اس طبقے کے لوگوں کو دو روپے فی کلو کی شرح پرچاول دستیاب کرا رہی ہے اور قبائلیوں کی زبان کا احترام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر اس طبقے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام نہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ صرف اچھے دن کانعر ہ دے کرکسی معاشرے کی بہتری نہیں کی جا سکتی۔

      First published: