உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Navjot Singh Sidhu: نوجوت سنگھ سدھو کا میڈیکل ٹیسٹ، جیل سے پٹیالہ اسپتال لے جایا گیا

    جیل میں ایک سال کی سزا کاٹ رہے ہیں

    جیل میں ایک سال کی سزا کاٹ رہے ہیں

    • Share this:
      سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو (Navjot Singh Sidhu) نے سال 1988 کے روڈ ریج کیس (road rage case) میں پٹیالہ جیل میں ایک سال کی سزا کاٹ رہے ہیں، جس میں ایک شخص کی موت شامل تھی، پیر کے روز انہیں طبی جانچ کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔

      نوجوت سنگھ سدھو کے وکیل ایچ پی ایس ورما نے بتایا کہ سدھو کو ان کی صحت کی حالت کی وجہ سے جیل میں خصوصی خوراک کی درخواست کے بعد پٹیالہ کے راجندرا اسپتال لے جایا گیا۔ ورما نے کہا کہ ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے اسپتال میں سدھو کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز کا بورڈ دیکھے گا کہ کس خاص خوراک کی ضرورت ہے اور پھر وہ اپنی رپورٹ مقامی عدالت (پٹیالہ میں) کو پیش کرے گا۔

      واضح رہے کہ

      نوجوت سنگھ سدھو (Navjot Singh Sidhu) نے جمعہ کے روز پنجاب کی پٹیالہ کورٹ میں سرینڈر کردیا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کو سپریم کورٹ نے 19 مئی کو روڈ ریج معاملے میں ایک سال کی سزا سنائی تھی۔ یہ معاملہ 34 سال پرانا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کے میڈیا مشیر سریندر دلّا نے بتایا کہ نوجوت سنگھ سدھو نے چیف عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے سرینڈر کردیا ہے۔ ان کی میڈیکل جانچ اور دیگر قانونی عمل اپنایا جا رہا ہے۔

      نوجوت سنگھ سدھو کا 27 دسمبر 1988 کو پٹیالہ میں گاڑی پارکنگ کو لے کر 65 سال کے بزرگ گرنام سنگھ سے جھگڑا ہوا تھا۔ نوجوت سنگھ سدھو نے انہیں مکّا مارا تھا، بعد میں گرنام سنگھ کی موت ہوگئی۔ اسی معاملے میں سپریم کورٹ نے سدھو کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:Disha Patani Video:دیشاپٹانی کی ان اداوں پرہورہی ہے بحث،اپنے حسن سے ایسے گرائیں بجلیاں

      اس سے قبل انہوں نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے خود سپردگی کے لئے کچھ ہفتوں کا وقت طلب کیا تھا۔ سدھو نے اپنی خراب صحت کا حوالہ دیا تھا۔ ان کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے چیف جسٹس این وی رمنا سے عرضی پر جلد سماعت کا مطالبہ بھی کیا تھا، لیکن چیف جسٹس نے جلد سماعت سے انکار کر دیا تھا۔

      مزید پڑھیں: Nora Fatehi: جب نورا فتیحی نے اس وجہ سے ہندوستان چھوڑنے کا کرلیا تھا ارادہ، چھلکا تھا درد

       

      نوجوت سنگھ سدھو کا 27 دسمبر 1988 کو پٹیالہ میں گاڑی پارکنگ کو لے کر 65 سال کے بزرگ گرنام سنگھ سے جھگڑا ہوا تھا۔ سدھو نے انہیں مکّا مارا تھا، بعد میں گرنام سنگھ کی موت ہوگئی تھی۔ نوجوت سنگھ سدھو اور ان کے دوست روپیندر سنگھ پر غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج ہوا۔ سال 1999 میں سیشن کورت نے سدھو کو ثبوتوں کی کمی کے سبب بری کردیا۔ متاثرہ فریق اس کے خلاف پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ چلا گیا۔ ہائی کورٹ نے 2006 میں نوجوت سنگھ سدھو کو تین سال قید کی سزا سنائی اور ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ لگایا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: