ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کانگریس کا وزیراعلیٰ یوگی سے سوال، کھلےمیں نمازپرروک توشاکھا پرکیوں نہیں؟

کانگریس ایم ایل سی دیپک سنگھ نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کرکہا ہے کہ سبھی مذاہب کے لئےایک قانون ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت کواس معاملے کوسنجیدگی سے لینا چاہئے۔ 

  • Share this:
کانگریس کا وزیراعلیٰ یوگی سے سوال، کھلےمیں نمازپرروک توشاکھا پرکیوں نہیں؟
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ: فائل فوٹو

اترپردیش کے نوئیڈا میں پارک میں نماز پڑھے جانے پرپابندی عائد ہونے کا معاملہ ابھی بھی گرم ہے۔ جمعہ کو اترپردیش کانگریس کے لیڈرسمپورنانند نے ڈی جی پی کوخط لکھ کر صوبے میں لگنے والی راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کی شاکھاوں پرروک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ الگ الگ اصول کیوں چلایا جارہا ہے؟ اس معاملے میں آج کانگریس کے ایم ایل سی دیپک سنگھ نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھا ہے۔


ایم ایل سی دیپک سنگھ نے کہا کہ تمام مذاہب کے لئے ایک قانون ہونا چاہئے۔ اس خط میں دیپک سنگھ نے نمازپرلگی پابندی کوغلط ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سبھی کے لئے ایک جیسا ہے، لہٰذاعوامی مقامات پراگرعبادت پرپابندی لگائی جاتی ہے، تویہ پابندی تمام مذاہب کے لئے ہونی چاہئے۔ اگرنمازپڑھنے پرپابندی ہے، توشاکھا پربھی روک لگنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت کواس معاملے کوسنجیدگی سے لینا چاہئے۔

کانگریس کےسمپورنا نند کاکہنا ہےکہ جب کھلے میں نمازپرروک لگائی گئی ہے، تویہی ضابطہ آرایس ایس کی شاکھاوں پرلاگو کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ اس طرح کا حکم دینا پوری طرح سےغیراخلاقی ہے۔ واضح رہے کہ سمپورنا ننداترپردیش کانگریس دانشورشعبہ کے  چیئرمین ہیں۔


دراصل نوئیڈامیں نمازپرروک کے معاملے نے طول پکڑلیا تھا۔ سیکٹر-58 تھانہ کے انچارج نے وہاں کی کمپنیوں کو نوٹس بھی جاری کیا تھا کہ ماحول نہ بگڑنے دینے کے لئے ملازمین کوپارک میں نمازپڑھنا سے روکا جائے۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگرعوامی مقامات پر نماز پڑھی گئی، تواس کی ذمہ دارمتعلقہ کمپنی ہوگی۔ حالانکہ اس کے بعد انتظامیہ کی طرف سے واضح کیا گیا کہ اس کی ذمہ دارکمپنی نہیں ہوگی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نمازپڑھنےمیں اعتراض نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے پہلے سے اجازت لینا ضروری ہے۔

First published: Dec 28, 2018 09:19 PM IST