ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جانئے کیا آسام میں ترون گوگوئی کی ضد کا کانگریس کو بھگتنا پڑا خمیازہ ، اٹھانا پڑا بڑا نقصان ؟

نئی دہلی : 19 مئی نے آسام کی تصویر صاف کر دی ہے ۔ بی جے پی پہلی مرتبہ تاریخی کامیابی اور بڑی جیت کے ساتھ ریاست کے اقتدار پر قابض ہونے جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی کانگریس اور اس کے وزیر اعلی ترون گوگوئی کو عوام نے اقتدار سے باہر کا راستہ بھی دکھا دیا ہے ۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: May 19, 2016 12:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جانئے کیا آسام میں ترون گوگوئی کی ضد کا کانگریس کو بھگتنا پڑا خمیازہ ، اٹھانا پڑا بڑا نقصان ؟
آسام کے سابق کانگریسی وزیر اعلیٰ ترون گگوئی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی : 19 مئی نے آسام کی تصویر صاف کر دی ہے ۔ بی جے پی پہلی مرتبہ تاریخی کامیابی اور بڑی جیت کے ساتھ ریاست کے اقتدار پر قابض ہونے جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی کانگریس اور اس کے وزیر اعلی ترون گوگوئی کو عوام نے اقتدار سے باہر کا راستہ بھی دکھا دیا ہے ۔ ترون گوگوئی کی اس شکست کی جہاں کئی وجوہات ہیں ، وہیں سب سے بڑی وجہ گوگوئی کی ایک ضد بھی ہے ، جس کا آج کانگریس کو خمیازہ بھگتنا پڑا ۔  یوں تو کانگریس کے ترجمان اپنی شسکت کیلئے حکومت مخالف لہر کو وجہ بتارہے ہیں ، مگر انتخابی مہم کے چانکیہ سمجھے جانے والے پرشانت کشور کے مشورہ کو اگر گوگوئی مان لئے ہوتے ، تو شاید آج نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔


ریاست میں کانگریس کی شکست کا سب سے اہم سبب اسٹریٹجک میں کمی کو قرار دیا جاسکتا ہے ۔ انتخابی دنگل میں پارٹیاں کس طرح چالیں چلتی ہیں ، یہی انہیں اقتدار کی چابی دلانے کا کام کرتا ہے ۔ منصوبہ بند کوشش ہی نے بہار میں لالو اور نتیش کو اقتدار میں واپسی کا موقع دیا تھا ، لیکن نتیش کمار کی انہیں کوششوں کو آسام میں کانگریس کے وزیر اعلی ترون گوگوئی نے خارج کردیا تھا اور شاید اسی کا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑا ہے ۔


بہار میں نتیش کی انتخابی حکمت عملی کو انجام دینے والے پرشانت کشور نے آسام میں آخری دم تک کوشش کی کہ اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل کو کانگریس کے ساتھ لایا جا سکے ،  لیکن ترون گوگوئی کی ضد کی وجہ سے انہیں اس میں ناکامی ہی ہاتھ لگی ۔


بی جے پی کو روکنے کے لئے کانگریس اور نتیش دونوں چاہتے تھے کہ بدرالدین اجمل کے ساتھ اتحاد ہو جائے، لیکن گوگوئی نے اسے مسترد کر دیا ۔ گوگوئی کا کہنا تھا کہ بدرالدین اجمل اور بی جے پی کے درمیان پہلے سے ہی خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے ۔ گوگوئی نے کہا تھا کہ بدرالدین کی پارٹی اتحاد میں 53 نشستیں چاہتی ہیں ، جو انہیں قطعی منظور نہیں ہے ۔ آسام کی 126 سیٹوں میں سے پچھلی مرتبہ کانگریس کو 78 اور بدرالدین کو 18 سیٹیں ملی تھیں ۔
First published: May 19, 2016 12:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading