உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمہوریت کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، کانگریس کو کمزور سمجھنے کی بھول نہیں کرنی چاہئے: سونیا

    نئی دہلی۔  کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر ملک کی جمہوری بنیاد کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج خبردار کیا کہ جمہوریت کو تباہ کرنے کے ان کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    نئی دہلی۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر ملک کی جمہوری بنیاد کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج خبردار کیا کہ جمہوریت کو تباہ کرنے کے ان کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    نئی دہلی۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر ملک کی جمہوری بنیاد کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج خبردار کیا کہ جمہوریت کو تباہ کرنے کے ان کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر ملک کی جمہوری بنیاد کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج خبردار کیا کہ جمہوریت کو تباہ کرنے کے ان کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ محترمہ گاندھی نے یہاں جنتر منتر پر 'جمہوریت بچاؤ ریلی' کے موقع پر منعقد بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ' مودی حکومت اپنے دو سال کی میعاد کار میں ہر محاذ پر پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔مسٹر مودی نے اپنی حکومت کی اس ناکامی کو چھپانے کے لئے اب اپوزیشن کے کردار پر انگلی اٹھانے کا اپنا پرانا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ ' انہوں نے کہا ' اپوزیشن کو بدنام کرنے کا کھیل کھیلنے والوں کے ساتھ ہی آر ایس ایس کو بھی اس ریلی کے ذریعے ملے اس پیغام کو واضح طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ کانگریس ان کے ارادوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہیں کانگریس کو کمزور سمجھنے کی بھی بھول نہیں کرنی چاہئے۔ کانگریس جمہوریت کے قتل اور اپوزیشن پر الزام لگانے کے ان کے کھیل کا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور جواب دے گی۔ '


      کانگریس صدر نے مودی حکومت پر دولت اور طاقت کے ذریعے جمہوریت کو قتل کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں منتخب حکومتوں کو ہٹا دیا گیا۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس قیادت والی منتخب حکومتوں کو گرا کر جمہوریت کی بنیاد ہی کمزور نہیں کی گئی بلکہ جمہوریت کا قتل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ کے جنگلوں میں شدید آگ لگی ہوئی ہے اور لوگ پریشان ہیں لیکن ریاست میں کوئی حکومت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت خواتین، كمزوروں اور عام لوگوں کی جمہوریت میں شراکت داری کم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ پنچایت انتخابات لڑنے کے لئے دسویں پاس ہونے کی لازمیت شروع کی گئی ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ مودی حکومت دلتوں اور خواتین کی پنچایت میں شراکت داری کے خلاف ہے۔ دلت اور خواتین کم پڑھے لکھے ہیں اور انہیں کو نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا "حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پانی جب سر سے اوپر چلا جاتا ہے تو ملک کے لوگ بڑے بڑوں کو پانی پلا دیتے ہیں۔ یہ جس طرح کا کام کر رہے ہیں اس سے واضح ہو گیا ہے کہ اب ان کے دن لدنے شروع ہو گئے ہیں۔ "


      بھاری بھیڑ سے حوصلہ پاکر محترمہ گاندھی نے اپنے خطاب میں حکومت کو جمہوری اقدار کے ساتھ چلانے کا چیلنج دیا اور اس کے بعد وہ پارٹی کے قدآور لیڈروں کے ساتھ پارلیمنٹ گھیراؤ کے لئے نکل پڑیں لیکن پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے سامنے انہیں اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو روک دیا گیا۔ محترمہ گاندھی کے ساتھ ہی مسٹر راہل گاندھی، ڈاکٹر منموہن سنگھ، مسٹر غلام نبي آزاد، ملک ارجن كھڑگے، احمد پٹیل، امبیکا سونی، آنند شرما، اجے ماکن، جیوتر آدتیہ سندھیا، رنديپ سنگھ سرجےوالا سمیت کئی دیگر رہنماؤں نے گرفتاری دی۔ محترمہ گاندھی سمیت کانگریس کے تمام رہنماؤں کو کچھ دیر تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ پیدل مارچ کے دوران کانگریس صدر اور نائب صدر بڑے ہجوم کے درمیان آ گئے جس کی وجہ سے سکیورٹی اہلکاروں کو بھاری مشقت کرنی پڑی۔ کئی کارکنان رسی لگا کر بنائے گئے حلقوں کے اندر کانگریس کے سرکردہ لیڈروں کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر چل رہے تھے۔ مسٹر آزاد اور دیگر رہنما کارکنوں کی بے قابوبھیڑ کے سبب پیچھے چھوٹ گئے جنہیں سیکورٹی اہلکار دھکا مکی سے بچاتے ہوئے تھانے کی طرف لے گئے۔

      First published: