ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

چیف جسٹس کے خلاف تحریک مواخذہ کا نوٹس خارج ہوا تو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی کانگریس

کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے خلاف دئے گئے تحریک مواخذہ کا نوٹس راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو خارج کردیتے ہیں تو پارٹی سپریم کورٹ کا رخ کرسکتی ہے۔

  • Agencies
  • Last Updated: Apr 22, 2018 11:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
چیف جسٹس کے خلاف تحریک مواخذہ کا نوٹس خارج ہوا تو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی کانگریس
کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے خلاف دئے گئے تحریک مواخذہ کا نوٹس راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو خارج کردیتے ہیں تو پارٹی سپریم کورٹ کا رخ کرسکتی ہے۔

نئی دہلی : کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے خلاف دئے گئے تحریک مواخذہ کا نوٹس راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو خارج کردیتے ہیں تو پارٹی سپریم کورٹ کا رخ کرسکتی ہے۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا کہ چیئرمین کے فیصلہ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ ان کا عدالتی تجزیہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس اس امید کے ساتھ چیف جسٹس پر اخلاقی دباو بنارہی ہے کہ مواخذہ کی تحریک پیش کئے جانے پر وہ اپنی عدالتی ذمہ داریوں سے الگ ہوجائیں گے۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے کہا کہ پہلے بھی مواخذہ کی کارروائی کا سامنے کرنے والے جسٹس عدالتی کام کاج سے الگ ہوئے تھے اور چیف جسٹس کو بھی یہی کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیلئے کوئی قانونی یا آئینی پابندی نہیں ہے بلکہ یہ صرف اخلاقی ہے ۔ کانگریس کو امید ہے کہ مواخذہ کی تحریک کے حوالہ سے جلد ہی فیصلہ ہوگا۔ ادھر پارلیمنٹ کے ایک افسر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نوٹس کو منظور کئے جانے سے پہلے ہی اس کی باتوں کو عام کرنے سے پارلیمانی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ جمعہ کو کانگریس اور چھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے ملک کے چیف جسٹس پر عہدہ کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف مواخذہ کی تحریک کا نوٹس دیا تھا۔

First published: Apr 22, 2018 11:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading