ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کانگریس اے ایم یو کے اقلیتی کردار کی لڑائی لڑے گی: سونیا گاندھی کی ہیومن چین کے وفد کو یقین دہانی

نئی دہلی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملے کو کانگریس زور شور سے اٹھائے گی اور موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت کے موقف پر قائم رہنے پر مجبور کرے گی۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 04, 2016 05:09 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کانگریس اے ایم یو کے اقلیتی کردار کی لڑائی لڑے گی: سونیا گاندھی کی ہیومن چین کے وفد کو یقین دہانی
نئی دہلی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملے کو کانگریس زور شور سے اٹھائے گی اور موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت کے موقف پر قائم رہنے پر مجبور کرے گی۔

نئی دہلی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملے کو کانگریس زور شور سے اٹھائے گی اور موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت کے موقف پر قائم رہنے پر مجبور کرے گی۔ یہ یقین دہانی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ہیومن چین کے ایک وفد کو کرائی جس کی قیادت کل ہند کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے چیرمین خورشید احمد سید  نے کی۔ محترمہ سونیا گاندھی نے وفد سے کہا کہ کانگریس پارٹی موجودہ حکومت کے اے ایم یو کے اقلیتی کردار کے حالیہ موقف کے بار ے میں آگاہ ہے اور کانگریس اس معاملہ کو مضبوطی کے ساتھ ہر محاذ پر اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور حکومت نے ہمیشہ اقلیتوں کے لئے لڑائی لڑی ہے اور اقلیتوں کی اس لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی  اس  معاملے پر پوری نظر رکھ رہی ہے اور ہر سطح پر اس کا دفاع کیا جائے گا۔


محترمہ سونیا گاندھی نے وفد سے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک اقلیتی ادارہ ہے اورمسلمانوں نے اس کے لئے کافی قربانی دی ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان اس معاملے میں خود کو اکیلا نہ سمجھیں کانگریس پارٹی اس سلسلے میں حکومت کو من مانی نہیں کرنے دے گی۔ وفدکے قائد خورشید احمد سید نے محترمہ گاندھی سے اس سلسلے میں پہل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کے وقارکا حساس معاملہ ہے اور کانگریس حکومت نے ہی اس ادارہ کو اقلیتی کردار دیا تھا اور اس کی حفاظت کرنے کے لئے اسے آگے آنا چاہئے۔مسٹر خورشید نے بعد میں الگ سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے اس طرح کے معاملے کو اٹھارہی ہے تاکہ لوگوں کی توجہ حکومت کے کام کاج سے ہٹ جائے۔  


ہیومن چین کے صدر انجینئر محمد اسلم علیگ نے محترمہ سونیا گاندھی کو اے ایم یو معاملے میں موجودہ حالات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے 2005میں جو موقف اپنایا تھا موجودہ حکومت اس سے روگردانی کرتے ہوئے اس سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور عزیز پاشا معاملے کو درست تسلیم کر رہی ہے۔ جب کہ اس وقت کی کانگریس کی حکومت اس کے عزیز باشا کیس کے اثر کو ختم کرنے کے لئے 1981میں پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کرکے مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار بحال کردیا تھا۔ انہوں نے محترمہ گاندھی سے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ مسلمانوں کی لڑائی لڑی ہے۔ اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی کردار کانگریس کے دور حکومت میں ہی ملا تھا اس لئے دونوں اداروں کے اقلیتی کردار کی حفاظت کے لئے کانگریس کو قدم اٹھانا چاہئے۔


وفد کے ارکان میں ڈاکٹر خالد مبشر جنرل سکریٹری ہیومن چین‘ منت رحمانی سکریٹری ہیومن چین اور چیرمین بہار کانگریس اقلیتی شعبہ‘ ایس ایم طلحہ‘ توقیر عالم‘ مجاہد اختر‘ عابدانور‘سلام انور‘ نسیم حیدر اور ایم اے انصاری شامل تھے۔

First published: Feb 04, 2016 05:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading