ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مالیگاؤں بم دھماکہ کے کیس میں این آئی اے کے موقف تبدیل کرنے کے پیچھے پی ایم او : کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے مالیگاؤں دھماکے کے ملزمین کو ایک ایک کرکے کلین چٹ دیے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے اس مسئلے کا نوٹس لے کر مجرموں کو سزا دلانے کی اپیل کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 15, 2016 10:39 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مالیگاؤں بم دھماکہ کے کیس میں این آئی اے کے موقف تبدیل کرنے کے پیچھے پی ایم او : کانگریس
نئی دہلی: کانگریس نے مالیگاؤں دھماکے کے ملزمین کو ایک ایک کرکے کلین چٹ دیے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے اس مسئلے کا نوٹس لے کر مجرموں کو سزا دلانے کی اپیل کی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے مالیگاؤں دھماکے کے ملزمین کو ایک ایک کرکے کلین چٹ دیے جانے کے معاملے کے پیچھے مودی حکومت کا ہاتھ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی ٹیم کےسابق سربراہ آنجہانی ہیمنت کرکرے جیسے اعلی شہیدافسران کی توہین قراردیا ہے اور سپریم کورٹ سے اس مسئلے کا نوٹس لے کر مجرموں کو سزا دلانے کی اپیل کی ہے۔

کانگریس کے ترجمان آنند شرما اور آر پی این سنگھ نے آج پارٹی کی خصوصی بریفنگ میں الزام لگایا کہ مودی حکومت نے مالیگاؤں دھماکے کی تحقیقات میں مداخلت کر کےقومی جانچ ایجنسی پر دباؤ بنایا ہے جس کی وجہ سے ایک ایک کر کے اس سانحہ کے ملزمان کو چھوڑا جا رہا ہے اور ان کے خلاف مکوکا کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس سے دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اس سے نہ صرف غلط پیغام جا رہا ہے بلکہ اس سے ہندوستان کی شبیہ اور اس کے عزم کوبھی متاثر کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس سنگین مسئلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنی خاموشی توڑنے کو بھی کہا کیونکہ وہ اکثر بولتے رہتے ہیں اور وہ کسی ایک پارٹی کے نہیں بلکہ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں اور انہوں نے اسی طور پر حلف لیا ہے۔ مسٹر شرما اور مسٹر سنگھ نے صحافیوں کو وزارت داخلہ کے ان کاغذات کی کاپیاں بھی دکھائیں جس میں مالیگاؤں دھماکے کے ملزمان کے خط لکھنے پر وزارت نے تیزی سے فائلوں کو نمٹانے کی کوشش کی ہے۔

کانگریس کے ان لیڈروں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے کر ان ملزمان کو کلین چيٹ دینے کے لئے حکومت اور قومی تفتیشی ایجنسی کے درمیان ہوئے تمام خط و کتابت و متعلقہ فائلوں اور کاغذات کو اپنے قبضے میں لیں نیز قصورواروں کو سزا دلانے کے لئے قانون کی حفاظت اور اس پر سختی سے عمل کرائیں۔

مسٹر شرما نے کہا کہ ہندوستان بین الاقوامی فورم پر اور اقوام متحدہ میں بھی دہشت گردی کے خلاف بولتا رہا ہے لیکن جس طرح مالیگاؤں دھماکے کے ملزمان کو کلین چٹ دی جا رہی ہے، اس سے ہندوستان کی شبیہ کو بھی دھکا لگے گا اور ہیمنت کرکرے جیسے شہید کو مشکوک بتانا نہ صرف ان کی توہین ہے بلکہ ان کی اہلیہ اور پورے خاندان پر داغ لگایا گیا ہے اور انہیں داغدار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی دہشت گردی پر سیاست کر رہی ہے اور تحقیقاتی کام کو نہ صرف متاثر کررہی ہے بلکہ اسے پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے اوراے ٹی ایس کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عدلیہ، استغاثہ اور تحقیقاتی ایجنسیاں تینوں آزاد ہوتی ہیں اور عاملہ اس میں مداخلت نہیں کرتی لیکن جس طرح وزارت داخلہ اور بی جے پی نے اس میں مداخلت کی ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ بی جے پی کے اتحادی تنظیموں کے لوگوں کو بچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں دھماکے کی سرکاری وکیل نے جو خدشہ ظاہر کیا تھا، وہ صحیح ثابت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں بند ایک مجرم کو بچانے کے لئے قومی جانچ ایجنسی نے وزارت داخلہ کو خط لکھا اور ایسا آج تک نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو مقدمہ آٹھ سال تک چلا اور تحقیقات میں ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر ہوئے، اس مقدمے میں اب یہ کہا جا رہا ہے کہ کانگریس نے اسے خراب کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا اور نہ مذہب یا علاقہ ہوتا ہے۔ اس کا رنگ صرف سیاہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ کہے جانے پر کہ کانگریس نے ہی بھگوا دہشت گردی کا لفظ استعمال کیا تھا، مسٹر شرما نے کہا،’’کسی خاص شخص نے بھلے ہی کہا ہو پر پارٹی ایسا نہیں مانتی۔ یہ کسی کے ذاتی خیال ہو سکتے ہیں، پارٹی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ترنگے کا پہلا رنگ بھی بھگوا ہے دوسرا سفید اور تیسرا سبز ہے۔ ہمیں ترنگے کی حفاظت کرنی ہے۔ لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ بی جے پی سمجھوتہ دھماکہ سانحہ میں بھی اسی طرح کی مداخلت کرکے قصورواروں کو بچانے کا کام کرنے جا رہی ہے۔
First published: May 15, 2016 05:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading