ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کو چیلنج کرے گی کانگریس

نئی دہلی۔ کانگریس نے مودی حکومت پر گورنروں کے ذریعہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ اروناچل پردیش میں جس طرح سے صدر راج نافذ کیا جا رہا ہے، وہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور کانگریس اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 25, 2016 06:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کو چیلنج کرے گی کانگریس
نئی دہلی۔ کانگریس نے مودی حکومت پر گورنروں کے ذریعہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ اروناچل پردیش میں جس طرح سے صدر راج نافذ کیا جا رہا ہے، وہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور کانگریس اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

نئی دہلی۔ کانگریس نے مودی حکومت پر گورنروں کے ذریعہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ اروناچل پردیش میں جس طرح سے صدر راج نافذ کیا جا رہا ہے، وہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور کانگریس اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپِل سبل نے یہاں کانگریس کے ہیڈ کوارٹر میں خصوصی پریس کانفرنس میں کہاکہ حکومت نے گورنروں کا استعمال آر ایس ایس کے پرچارک کے طور پر شروع کردیا ہے اور وہ ان کے ذریعہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے کام کر رہی ہے۔


انہوں نے اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کو اسی ایجنڈہ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ گورنر نے خود اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے غیرآئینی کام کیا ہے۔ آئین کے مطابق وہ خود اجلاس طلب نہیں کرسکتے۔ گورنر کو اجلاس طلب کرنے کا اختیار ہے لیکن وہ وزیر اعلی اور وزرا کی کونسل کی سفارش کےبعد اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔ کانگریس لیڈر نےکہاکہ اروناچل پردیش میں اسمبلی اسپیکر کو نظر انداز کرکے ڈپٹی اسپیکر نے حکومت کی مرضی کے مطابق کام کیا ہے جبکہ خود ڈپٹی اسپیکر کو اسمبلی اسپیکر پہلے ہی نااہل قرار دے چکے ہیں۔


مسٹر سبل نے کہاکہ اروناچل پردیش میں حکومت نے آئین کوپوری طرح سے نظر انداز کیا ہے۔ وہاں جو کچھ بھی ہوا ہے وہ منصوبہ بند تھا۔ وہاں گورنر نے 14 جنوری کو ایوان کی میٹنگ طلب کی تھی تو اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اورعدالت نے گورنر کے قدم کی تنقید کی۔ اس فیصلے کے بعد اس بنچ کے جج کو تبدیل کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اس پورے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی، بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ اور آر ایس ایس شامل ہیں۔ مودی حکومت اپوزیشن کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ملک میں جس ریاست میں بھی غیر بی جے پی حکومتیں ہیں وہاں صورتحال کو بگاڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اروناچل پردیش میں بھی بی جے پی نے اسی طرح کی صورتحال پیدا کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک باغی رکن اسمبلی اور ایک صنعتکار کے مابین بات چیت کا حوالہ دیا اور کہاکہ اس معاملے میں پوری طرح سے پیسے کا لین دین ہوا ہے۔


First published: Jan 25, 2016 06:47 PM IST