ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پرینکا گاندھی کے سرگرم سیاست میں آنے کے مطالبہ کے درمیان کانگریسی لیڈروں کا روڈشو کل

وزیر اعلی کے چہرے کے طور پر پیش کی گئی دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت، کانگریس کے نئے ریاستی صدر راج ببر، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ریاستی انچارج غلام نبی آزاد، انتخابی مہم کمیٹی کے صدر سنجے سنگھ اور رابطہ کمیٹی کے رکن پرمود تیواری ایک ساتھ آئیں گے

  • UNI
  • Last Updated: Jul 16, 2016 08:57 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پرینکا گاندھی کے سرگرم سیاست میں آنے کے مطالبہ کے درمیان کانگریسی لیڈروں کا روڈشو کل
file photo

لکھنؤ : اترپردیش میں کانگریس کو برتری دلانے کیلئے پرینکا گاندھی کی فعالیت بڑھانے کے زبردست مطالبے کے درمیان یوپی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی نیا پار لگانے کے لیے بننے والی ٹیم کل یہاں روڈ شو کرے گی۔ وزیر اعلی کے چہرے کے طور پر پیش کی گئی دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت، کانگریس کے نئے ریاستی صدر راج ببر، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ریاستی انچارج غلام نبی آزاد، انتخابی مہم کمیٹی کے صدر سنجے سنگھ اور رابطہ کمیٹی کے رکن پرمود تیواری ایک ساتھ آئیں گے۔

تمام لیڈر تقریباً 12 بجے لکھنؤ کے اموسی ہوائی اڈے پر پہنچیں گے۔ وہ وہاں سے قریب 14 کلومیٹر روڈ شو کر کے کانگریس کے مال ایونیو میں واقع ریاستی دفتر پہنچیں گے۔ مسٹر راج ببر کا آج یہاں آنے کا پروگرام تھا لیکن محترمہ دکشت کے وزیر اعلی کے طور پر پارٹی کا چہرہ اعلان ہو جانے کی وجہ سے مسٹر ببر نے مزید لوگوں کے ساتھ کل ہی آنے کا فیصلہ کیا۔

ادھرپرینکا گاندھی پر فعال سیاست میں آنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ الہ آباد کے سول لائنز علاقے میں ان کے فعال سیاست میں آنے کی اپیل والے بینر لگائے گئے ہیں۔ بینر میں ان سے کانگریس کو آگے لے جانے کے لیے پوری طرح سیاست میں سرگرم ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس سے پہلے لکھنؤ میں بھی اسی طرح کے بینر لگائے گئے تھے۔ پردیش کانگریس کے انچارج غلام نبی آزاد بھی مانتے ہیں کہ محترمہ پرینکا کے آنے سے کارکن کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی، لیکن اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

دوسری طرف کل یہاں آ نے والے لیڈروں کے استقبال کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے پردیش کانگریس میڈیا کمیٹی کے چیئرمین ستيہ دیو ترپاٹھی نے بتایا کہ سبکدوش ہونے والے صدر نرمل کھتری خود ساری تیاریوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔ مسٹر ترپاٹھی نے بتایا کہ مسٹر کھتری کی قیادت میں ان لیڈروں کے استقبال کی تیاریوں کے لئےمیٹنگ کی گئی۔ اسکریننگ کمیٹی کے صدر بنائے گئے مسٹر کھتری نے کہا کہ مسٹر ببر اور محترمہ دکشت سمیت دیگر رہنماؤں کا تاریخی استقبال کیا جائے گا۔  ان کا کہنا تھا کہ اس سے کارکنوں کا حوصلہ بڑھے گا، سیاسی مخالفین مایوس ہوں گے۔ 100 سے زائد استقبالیہ گیٹ بنائے جائیں گے۔ پورے شہر کو جھنڈوں اور بینرز سے پاٹ دیا جائے گا۔

شاید یہ پہلا موقع ہے جب اتر پردیش میں کانگریس نے انتخاب سے قبل وزیر اعلی کے طور پر کسی کو آگے کیا ہے۔ محترمہ شیلا دکشت لکھنؤ سے ملحقہ اناؤ کی بہو ہیں۔ ان کے شوسر اوما شنکر دکشت کانگریس کے قدآور لیڈر تھے۔ وہ قنوج لوک سبھا سیٹ سے 1984 میں پہلی بار پہلی بار پارلیمنٹ پہنچی تھی۔

ان لیڈروں کے استقبال کے لیے جاری تیاریوں کے درمیان حزب اختلاف نے ان پر جارحانہ رخ اپنانا بھی شروع کر دیا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی نے کہا کہ دہلی حکومت کی سربراہ رہنے پر محترمہ دکشت نے دلتوں، غریبوں اور پچھڑوں کے مفادات کو نقصان پہنچایاتھا۔ مایاوتی نے کہا کہ کئی پارٹیوں کا چکر کاٹ کر کانگریس میں آنے والے راج ببر کو صدر اور دہلی میں بدعنوانی کے کئی معاملات کی ملزم محترمہ شیلا دکشت کو کانگریس پارٹی کا وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار اعلان کرنا خاص طور پر برہمن اور پچھڑوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے جیسا ہے۔ یہ اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کی خستہ حالي اور دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔
بی ایس پی کی سربراہ نے دعوی کیا کہ ان کے حصوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختص بجٹ کے فنڈ کو ڈائیورٹ کیا اور غیرضروری کاموں پر خرچ کر کے دہلی کی سابق وزیر اعلی نے غریب مخالف کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی پارٹیوں میں چکر لگانے کے بعد کانگریس پارٹی میں شامل ہونے والے راج ببر کو اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بنانا واقعی پردیش میں کانگریس کی خستہ حالی دیوالیہ پن کی ہی عکاسی کرتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صوبائی صدر کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ مسٹر راج ببر یا محترمہ شیلا دکشت کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے کیونکہ عوام کانگریس کو مسترد چکی ہے۔ کانگریس آہستہ آہستہ تاریخ بننے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اب اس کا بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ حکمراں سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر شیوپال سنگھ یادو مسٹر راج ببر کو پہلے ہی داغے ہوئے کارتوس بتا چکے ہیں۔
First published: Jul 16, 2016 08:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading