ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نائب صدر جمہوریہ کا مواخذہ کی تحریک پر فیصلہ "غیر قانونی "، سپریم کورٹ جائیں گے : کپل سبل

چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ کی تحریک خارج ہونے کے بعد سابق وزیر قانون کپل سبل نے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔

  • Share this:
نائب صدر جمہوریہ کا مواخذہ کی تحریک پر فیصلہ
کپل سبل ۔ فوٹو : اے این آئی

نئی دہلی : چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ کی تحریک خارج ہونے کے بعد سابق وزیر قانون کپل سبل نے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ کپل سبل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ ہے۔ انہوں نے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو کے فیصلہ پر کہا کہ اگر وہ تکنیکی موقف جاننے کیلئے وکیلوں سے بات کرلیتے تو شاید یہ فیصلہ نہیں لیا جاتا۔

غور طلب ہے کہ ہندوستان کے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال اور آئینی ماہرین سے تبادلہ خیال کے بعد نائب صدر نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سی جے آئی کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد پائے گئے ہیں ، جس کے بعد تحریک کو خارج کردیا گیا۔ دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ کی تحریک لانے کیلئے کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے جمعہ کو نائب صدر کو نوٹس دیا تھا ۔ اپوزیشن کی تجویز پر 7 پارٹیوں کے ممبران نے دستخط کئے تھے۔

ادھر کپل سبل نے پیر کو اعلان کیا کہ اگر جسٹس دیپک مشرا سی جے آئی کے عہدہ سے نہیں ہٹے ، تو وہ آئندہ سے کبھی بھی ان کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ حالانکہ نائب صدر نے اپوزیشن کے مواخذہ کی تحریک کو خارج کردیا ہے۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق کپل سبل نے پیر کو سی جے آئی کی عدالت میں پیش نہیں ہونے کا اعلان کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک سی جے آئی دیپک مشرا ریٹائرڈ نہیں ہوجاتے ، اس وقت تک ان کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ پیشہ وارانہ اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے سبل نے اس کا اعلان کیا۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق سبل نے کہا کہ مواخذہ کے مسودہ پر الگ الگ پارٹیوں کے 71 ممبران نے دستخط کئے ہیں ۔ میرے علاوہ کئی لوگوں نے سی جے آئی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ میں پیر سے کورٹ نہیں جاوں گا۔

First published: Apr 23, 2018 05:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading