ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ورون گاندھی کو کانگریس میں لانے کا منصوبہ؟ 23 جون سے مل رہے ہیں یہ اشارے

نئی دہلی۔ گزشتہ 23 جون کو کانگریس پارٹی کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے سنجے گاندھی کو ان کی برسی کے دن خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 04, 2016 05:22 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ورون گاندھی کو کانگریس میں لانے کا منصوبہ؟ 23 جون سے مل رہے ہیں یہ اشارے
نئی دہلی۔ گزشتہ 23 جون کو کانگریس پارٹی کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے سنجے گاندھی کو ان کی برسی کے دن خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔

نئی دہلی۔ گزشتہ 23 جون کو کانگریس پارٹی کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے سنجے گاندھی کو ان کی برسی کے دن خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔ گاندھی خاندان کے پچھلے 36 سالوں کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب سنجے گاندھی کو یاد کیا گیا تھا۔


اس بات کی چرچا کانگریس سے لے کر لٹین دہلی میں بھی تھی۔ یہ بات تو پورے ملک کو معلوم ہے کہ گاندھی خاندان کی دو بہوؤں سونیا اور مینکا گاندھی کے خاندانوں کے درمیان کی کھائیں اب سیاسی لکیر میں تبدیل ہو چکی ہیں جسے شاید مٹا پانا بہت مشکل ہے۔


اس سے کہیں زیادہ حیران کر دینے والی بات یہ تھی کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے پہلی بار ورون کے والد سنجے گاندھی کی سمادھی پر جاکر بھی خراج عقیدت پیش کیا۔


لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ لکیر کچھ کم ضرور ہوئی ہے۔ کہا تو یہاں تک جاتا ہے کہ کانگریس کے کچھ سینئر اور بزرگ لیڈر ورون گاندھی کے رابطے میں ہمیشہ رہتے ہیں۔ لیکن کانگریس صدر سونیا گاندھی اور مینکا کے درمیان دشمنی اس کو جگ ظاہر نہیں ہونے دیتی ہے۔

پانچ سال پہلے اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران جب پرینکا گاندھی نے اپنے چچا زاد بھائی ورون گاندھی کو اشتعال انگیز بیان بازی کے لئے لتاڑا تو ایک بار پھر دونوں خاندانوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔

تاہم پرینکا کے اس حملے کا ورون نے بہت ہی جذباتی جواب بھی دیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں کے درمیان کئی رسمی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ پرینکا اور ورون آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ میں بھی رہتے ہیں۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں کے درمیان سیاسی مسائل پر بات چیت نہیں ہوتی ہے۔

تو پھر اس ٹویٹ کے کیا معنیٰ ہیں؟

اس لحاظ سے یہ ٹویٹ بہت معنی رکھتا ہے کیونکہ ایسا لگ رہا ہے کہ کانگریس دو کام کرنا چاہتی ہے۔ ورون اور بی جے پی اعلی کمان کے درمیان ان بن کی باتیں ہر کوئی جانتا ہے۔ الہ آباد میں ہوئی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے دوران ہی ان کو 'طاقت کا مظاہرہ' نہ کرنے کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔ ورون یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا چہرہ بننا چاہتے ہیں۔ کانگریس کا پلان ہے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات سے پہلے گاندھی خاندان کو ایک کر دیا جائے۔

اگر یہ پلان کامیاب ہو جاتا ہے تو ورون گاندھی کے طور پر کانگریس کو اسپیکراور موثر لیڈر مل جائے گا۔ اس میں صرف ایک ہی خطرہ ہے کہ کہیں ورون گاندھی کانگریس میں راہل کے لئے خطرہ نہ بن جائیں۔

اس سے کانگریس کو کیا فائدہ ہو گا؟

دراصل کانگریس کو ایک ایسے چہرے کی تلاش ہے جو ایک زبردست اسپیکر ہو۔ یہ خصوصیت راہل کے مقابلے میں ورون گاندھی میں بہت زیادہ ہے۔ جس طرح سے علاقائی پارٹیاں جیسے ٹی ایم سی، عام آدمی پارٹی، بی جے پی اور کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھر رہی ہیں اس میں کانگریس کو اب ویسے ہی ایک رہنما کی ضرورت ہے۔

وہیں کانگریس کے اندر ورون کا جتنا احترام ہے اتنا تو ان کو بی جے پی میں رہتے بھی نہیں ملا ہے۔ کانگریس کو لگتا ہے کہ ورون کے ساتھ مل کر بی جے پی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

کانگریس کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہو پاتی ہے یہ تو پتہ نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوک سبھا انتخابات 2019 سے پہلے یہ خبر آ جائے تو کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔
First published: Jul 04, 2016 05:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading