اپنا ضلع منتخب کریں۔

    راجیو گاندھی قتل کیس کے قصورواروں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی کانگریس، دائر کرےگی ریویو عرضی

    کانگریس نے پہلے مرکزی حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست کے تحت مداخلت کی درخواست دائر کرنے کی بات کی تھی، بعد میں پارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم کے قتل کے تمام مجرموں کو رہا کرنے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جانب سے راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کرنے کے معاملے میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔ کانگریس نے پہلے مرکزی حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست کے تحت مداخلت کی درخواست دائر کرنے کی بات کہی تھی، بعد میں پارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم کے قتل کے تمام مجرموں کو رہا کرنے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرے گی۔ اس سے قبل 17 نومبر کو مرکزی حکومت نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے تمام چھ قصورواروں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے مقدمے میں شامل دیگر فریقوں کو سنے بغیر ہی مجرموں کی قبل از وقت رہائی کا فیصلہ دے دیا۔

      راجیو گاندھی قتل کیس میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، تمام 6 قصورواروں کو رہا کرنے کا حکم

      حکومت نے عدالتی عمل میں خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی درخواست میں کہا کہ اس مقدمے میں ایک ضروری فریق ہونے کے باوجود اسے بولنے کا کوئی مناسب موقع نہیں دیا گیا ہے۔ مرکز نے کہا کہ مجرموں نے سزا پر نظر ثانی کی عرضی کے وقت مرکزی حکومت کو فریق نہیں بنایا، اسی لئے اس کیس سے متعلق اہم ثبوت اور پہلو سپریم کورٹ کے سامنے آنے سے رہ گئے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اس حوالے سے سپریم کورٹ سے بہت درست اور مناسب فیصلہ آتا۔

       

      CBI جانچ میں تیزی، فٹبال فیڈریشن سے طلب کی گئی کلب سے جڑی جانکاری

      افغانی سرحد پر پاک کے کررم کے پاس ہوئی بھیانک فائرنگ، 2سمیت 7 زخمی: رپورٹ

      قابل ذکر ہے کہ 11 نومبر کو سپریم کورٹ نے نلینی سری ہرن سمیت 5 مجرموں کو جیل سے رہا کیا تھا۔ سپریم کورٹ پہلے ہی ایک اور مجرم پیراریولن کی رہائی کا حکم دے چکی ہے۔ مجرموں کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ تمل ناڈو حکومت نے پہلے گورنر سے قاتلوں کی رہائی کی سفارش کی تھی۔ چونکہ اس معاملے میں گورنر کی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا رہا ہے، اس لیے ہم خود کرتے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: