ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو وزارت اقلیتی امور کے تحت لائے جانے کی بات پر تنازعہ 

دراصل تقریبا چھ ماہ قبل وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں قومی اردو کونسل کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے اداروں کو اقلیتی امور کے تحت کیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔

  • Share this:
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو وزارت اقلیتی امور کے تحت لائے جانے کی بات پر تنازعہ 
نئی دہلی کے جسولہ میں واقع این سی پی یو ایل کی عمارت

نئی دہلی۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو وزارت برائے اقلیتی امور کے تحت  ادارہ بنائے جانے کو لے کر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ ایک طرف جہاں اردو ادیب اور شاعر اور دانشور طبقہ قومی اردو کونسل کو وزارت اقلیتی امور کے تحت کیے جانے کی پرزور مخالفت کر رہا ہے تو وہیں اس معاملے میں وزیر اعظم کا دفتر جلد ہی کوئی فیصلہ لے سکتا ہے ۔


دراصل تقریبا چھ ماہ قبل وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں قومی اردو کونسل کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے اداروں کو اقلیتی امور کے تحت کیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔ مختار عباس نقوی نے قومی اردو کونسل کو لے کر وزیراعظم دفتر سے کہا تھا کہ قومی اردو کونسل اقلیتوں کی فلاح و بہبود، ان کی تعلیم اور اردو زبان کے لئے کام کرتا ہے جو اقلیتوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے اس ادارے کو وزارت اقلیتی امور کے تحت ہونا چاہیے ۔جس کے بعد وزیر اعظم کے دفتر نے قومی اردو کونسل کے ساتھ ساتھ دوسرے تمام اداروں کو ایک لیٹر جاری کیا تھا جس میں ان سے ان کی رائے مانگی گئی تھی۔ اب اس معاملے میں وزیر اعظم کا دفتر جلد ہی کوئی فیصلہ لے سکتا ہے۔


قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد: فائل فوٹو
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد: فائل فوٹو


تاہم اس معاملے میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا چھ ماہ قبل ان کے پاس ایک خط ضرور آیا تھا جس کا انہوں نے جواب دے دیا تھا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی اردو کونسل اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور یہ صرف مسلمانوں یا اقلیتوں کے لئے کام نہیں کرتا بلکہ اس کی تمام اسکیمیں اور پروجیکٹ تمام ہندوستانی شہریوں کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اردو زبان صرف مسلمان یا اقلیت نہیں بولتی بلکہ ہندو اور مسلمان تمام لوگ بولتے ہیں اس لئے اردو زبان کو صرف اقلیتوں کی زبان قرار دینا درست نہیں ہے۔
First published: Feb 19, 2020 12:56 PM IST