ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی میں آکسیجن آڈٹ رپورٹ پر تنازع ، کیجریوال حکومت نے رپورٹ کو بتایا فرضی 

دہلی میں کورونا قہر کی دوسری لہر کے درمیان آکسیجن کی فرضی کمی کا الزام سامنے آنے کے بعد اس معاملہ میں تنازع پیدا ہوگیا ہے ۔ دراصل آکسیجن آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ کو بنیاد بناکر دہلی حکومت پر بی جے پی لیڈران نے شدید تنقید کی ۔

  • Share this:
دہلی میں آکسیجن آڈٹ رپورٹ پر تنازع ، کیجریوال حکومت نے رپورٹ کو بتایا فرضی 
دہلی میں آکسیجن آڈٹ رپورٹ پر تنازع ، کیجریوال حکومت نے رپورٹ کو بتایا فرضی 

نئی دہلی : دہلی میں کورونا قہر کی دوسری لہر کے درمیان آکسیجن کی فرضی کمی کا الزام سامنے آنے کے بعد اس معاملہ میں تنازع پیدا ہوگیا ہے ۔ دراصل آکسیجن آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ کو بنیاد بناکر دہلی حکومت پر بی جے پی لیڈران نے شدید تنقید کی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں تھی ۔ تاہم دہلی حکومت نے شور مچایا اور معاملہ کو عدالت میں لے گئی ، جس کی وجہ سے بارہ ریاستوں میں آکسیجن کی کمی ہوسکتی تھی ۔ لیکن اس موضوع پر دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی رپورٹ ہی نہیں ہے ۔


تفصیلات کے مطابق دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس کرکے بی جے پی کے تمام اعلی رہنماوں پر ایک فرضی رپورٹ کی مدد سے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بدنام کرنے کا الزام لگایا ۔ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ بی جے پی قائدین اور مرکزی وزرا کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اپریل کے مہینے میں کورونا پیک کے دوران دہلی میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں تھی اور حکومت بار بار مطالبہ کررہی تھی اور زیادہ آکسیجن مانگ رہی تھی ۔ بی جے پی کے تمام بڑے قائدین ، مرکزی وزرا صبح سے ہی سوشیل میڈیا ، ٹویٹر پر اروند کیجریوال کو گالیاں دے رہے ہیں۔


نائب وزیر اعلی نے اس رپورٹ کو فرضی قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ایسی کوئی رپورٹ وجود میں نہیں ہے ، جس کے ذریعہ بی جے پی قائدین وزیر اعلی اروند کیجریوال پر حملہ کر رہے ہیں ۔ نائب وزیر اعلی نے کہا کہ سپریم کورٹ آکسیجن آڈٹ کمیٹی کی مبینہ رپورٹ ، جو بی جے پی بتا رہی ہے ، آکسیجن آڈٹ کمیٹی کے ممبروں کے مطابق ، کمیٹی کی طرف سے نہ تو ایسی رپورٹ منظور کی گئی ہے اور نہ ہی جاری کی گئی ہے ۔


نائب وزیر اعلی نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کی اعلی قیادت سے کہا کہ مرکز اور بی جے پی کے قائدین جواب دیں اور بتائیں کہ جب آکسیجن آڈٹ کمیٹی کے ذریعہ کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی تھی ، تو یہ رپورٹ کہاں سے اور کیسے وجود میں آئی؟ ۔ انہوں نے بی جے پی رہنماوں کو تاکید کی کہ نیوز چینلز پر شور مچانے کی بجائے بی جے پی قائدین کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ کام کرنا چاہئے کہ یہ جعلی رپورٹ کہاں سے آئی ہے ۔

نائب وزیر اعلی نے کہا کہ آکسیجن سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور زیر التوا ہے۔ ادھر بی جے پی کی جانب سے اس پر سازش ٹھیک نہیں ہے۔ نائب وزیر اعلی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اپریل میں کورونا پیک کے دوران دہلی میں آکسیجن کی شدید قلت تھی۔ آکسیجن مینجمنٹ کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد تھی، لیکن اس مرکز نے پورے ملک میں آکسیجن مینجمنٹ کو تقسیم کردیا تھا۔ لوگ ، ڈاکٹر ، اسپتال آکسیجن کی کمی کے بارے میں چیخ رہے تھے، لیکن آج مرکزی حکومت اور بی جے پی قائدین اپنی بد انتظامی کی ذمہ داری اٹھانے کی بجائے بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر اسے آکسیجن آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ بتا رہے ہیں۔ بی جے پی قائدین اور اعلی قیادت کو ان کے اس جھوٹ پر شرم آنی چاہئے۔ اس رپورٹ کے ذریعہ بی جے پی ان تمام مریضوں ، اسپتالوں ، ڈاکٹروں کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو آکسیجن کی کمی کے حوالے سے عدالت گئے تھے۔

نائب وزیر اعلی نے کہا کہ بی جے پی قائدین بے شرمی کی حد پر آگئے ہیں اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں ۔ نائب وزیر اعلی نے وزیر اعظم مودی سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی کو سنبھالیں اور قائدین کو کام پر لگائیں، کیونکہ بی جے پی قائدین کے جھوٹ نے ملک کو تقسیم کردیا ہے۔ آج ، بھاجپا - بھارتیہ جنتا پارٹی کی بجائے، بھارتیہ جھگڑالو پارٹی بن چکی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 25, 2021 11:15 PM IST