உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مذہب تبدیل کرنے والے جوڑوں کو شادی کرنے سے نہیں روکا جا سکتا، الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

    مذہب تبدیل کرکے اپنی مرضی سے شادی کرنے والے افراد کو مقامی انتظامیہ سے اجازت لینے کی ضرورتنہیں ہے ۔

    مذہب تبدیل کرکے اپنی مرضی سے شادی کرنے والے افراد کو مقامی انتظامیہ سے اجازت لینے کی ضرورتنہیں ہے ۔

    مذہب تبدیل کرکے اپنی مرضی سے شادی کرنے والے افراد کو مقامی انتظامیہ سے اجازت لینے کی ضرورتنہیں ہے ۔

    • Share this:
    الہ آباد ۔ یو پی میں متنازعہ انسداد تبدیلی مذہب قانون نافذ ہونے کے بعد سے مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے والے بالغ جوڑوں کے لئے نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں ۔ نئے قانون کے تحت اپنا آبائی مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے والے لڑکی یا لڑکے کے لئے مقامی کلیکٹر سے اجازت نامے حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ اس قانون کی وجہ سے بین مذاہب شادی کرنے والوں کے لئے قانونی طور پر شادی کا رجسٹریشن حاصل کرنا کافی پیچیدہ ہو گیا ہے لیکن اب الہ آباد ہائی کورٹ نے انسداد تبدیلی مذاہب قانون پر اپنا اہم فیصلہ سنایا ہے ۔

    الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ انسداد تبدیلی مذہب قانون نے مذہب تبدیل کرکے شادی پر کسی طرح کی روک نہیں لگائی ہے ۔ جسٹس سنیت کمار کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے والے جوڑے مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری اجازت نامے کے بغیر شادی کر سکتے ہیں ۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ تبدیلی مذہب کی سند کے بغیر شادی کا رجسٹریشن کرانے کی سہولیات فراہم کرے ۔ عدالت نے کہا ہے کہ رجسٹرار کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ دو بالغوں کی شادی رجسٹر کرنے سے انکار کردے ۔



    عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے والے جوڑوں کو سکیورٹی فراہم کی جائے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ تبدیلی مذہب کی سرکاری تصدیق لازمی نہیں ہے ۔سرکاری تصدیق کے بغیر بھی شادی کا رجسٹریشن کرایا جا سکتا ہے ۔

    وہیں اہل خانہ جب بیٹی کے گھر پہنچے تو ان سے بھی مار پیٹ کی گئی ۔ کسی طرح بیٹی کو گھر لائے اہل خانہ نے داماد سمیت تین کے خلاف کیس درج کرایا ہے ۔ پولیس نے واقعہ کی چھان بین اور شراب پارٹی کرنے والے شوہر اور اس کے دوستوں کی تلاش شروع کردی ہے ۔ علامتی تصویر ۔


    واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں ١۷ ، ایسے جوڑوں نے عرضی داخل کی تھی جو مذہب تبدیل کرکے اپنی مرضی کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مقامی انتظامیہ کی طرف سے ان کو شادی کے اجازت نامے جاری نہیں کئے جا رہے ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: