உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا ڈیلٹا پلس کی وجہ سے آئے گی کورونا کی تیسری لہر، جانئے کیا کہتے ہیں ایکسپرٹس

    کیا ڈیلٹا پلس کی وجہ سے آئے گی کورونا کی تیسری لہر، جانئے کیا کہتے ہیں ایکسپرٹس ۔ پی ٹی آئی ۔ فائل فوٹو ۔

    کیا ڈیلٹا پلس کی وجہ سے آئے گی کورونا کی تیسری لہر، جانئے کیا کہتے ہیں ایکسپرٹس ۔ پی ٹی آئی ۔ فائل فوٹو ۔

    Coronavirus 3rd Wave Delta Plus Variant: سبھی وبائی سائنسدانوں نے اپنی پیشین گوئی میں کورونا کی تیسری لہر کو تقریبا تقریبا لازمی بتایا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ٹیکہ کاری پر قومی تکنیکی صلاح کار گروپ کے کورونا وائرس ورکنگ گروپ کے سربراہ ڈاکٹر این کے اروڑہ نے اتوار کو کہا کہ ہندوستان میں کورونا وائرس وبا کی دوسری لہر کم ہورہی ہے اور ڈیلٹا کے نئے ویریئنٹ ڈیلٹا پلس نے نئی تشویش پیدا کردی ہے ، کیونکہ سبھی وبائی سائنسدانوں نے اپنی پیشین گوئی میں کوورونا کی تیسری لہر کو تقریبا لازمی بتایا ہے ، لیکن ڈیلٹا پلس کو ابھی تک وبا کی تیسری لہر سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ کورونا ویریئنٹس کا ربط وبا کی نئی لہروں سے ہے ، اس لئے تیسری لہر کیلئے ڈیلٹا پلس ویریئنٹس کو ذمہ دار ماننے کے امکان کو خارج نہیں کیا جاسکتا ۔

      ڈٓاکٹر اروڑہ نے پی ٹی آئی سے کہا کہ وبا کی لہروں کا تعلق وائرس کے نئے ویریئنٹس یا پھر نئے موٹیشن سے ہے ، اس لئے ڈیلٹا پلس ویریئنٹ کی وجہ سے تیسری لہر آنے کا امکان ہے ، کیونکہ یہ نیا ویریئنٹ ہے ۔ لیکن کیا واقعی یہ تیسری لہر کی جانب لے جائے گا ، اس کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ یہ دو یا تین چیزوں پر منحصر ہوگا ۔ ڈاکٹر اروڑہ نے کہا کہ وائرس کا واحد ویریئنٹ ملک پر بری طرح سے چوٹ نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس کے علاوہ تین دیگر ایسے فیکٹرس بھی ہیں جو وبا کی ممکنہ نئی لہر کو قابو کریں گے ۔

      پہلا فیکٹر : وبا کی تیسری لہر اس بات پر منحصر ہوگی کہ کورونا کی دوسری لہر میں آبادی کس شرح میں متاثر ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر اروڑہ نے نے کہا کہ اگر دوسری لہر کے دوران آبادی کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا ہے ، تو اگلی لہر میں لوگوں کو ایک معمولی سردی جیسی بیماری ہوسکتی ہے ، لیکن سنگین یا خطرناک بیماری ہونے کا امکان نہیں کے برابر ہے ۔

      دوسرا فیکٹر : اگر اس رفتار سے ٹیکہ کاری مہم چلتی رہی تو تیسری لہر آنے تک بڑی تعداد میں لوگوں کے جسم میں امیون سسٹم ڈیولپ ہوجائے گا ۔ ڈاکٹر اروڑہ نے کہا کہ جس تیزی سے ہم ٹیکہ کاری کررہے ہیں ، یہاں تک کہ ویکسین کی ایک ڈوز بھی اثر دار ہے اور جس طرح سے ہم منصوبہ بنارہے ہیں ، اگر ہم تیزی سے ٹیکہ کاری کرتے ہیں تو تیسری لہر کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے ۔

      تیسرا فیکٹر : ماسک پہننا ، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا سمیت کورونا سے متعلق پروٹوکول پر سختی سے عمل کرنے سے بھی تیسری لہر سے بچا جاسکتا ہے ۔ کورونا پروٹوکول ایک ایسا اہم حصہ ہے ، جس پر ماہرین ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: