ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنئو: پولیس کی ناجائز وصولی اور کورونا کی مار سے اب غریب لوگوں کی زندگی پوری طرح مفلوج

لکھنئو میں غریب لوگوں پر دوطرفہ مار پڑ رہی ہے۔ ایک تو کورونا زندگی کو پہلے ہی اجیرن بنا چکی ہے۔ دوسری طرف پٹری دوکانداروں سے پولس کی ناجائز وصولی نے ان کے مسائل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

  • Share this:
لکھنئو: پولیس کی ناجائز وصولی اور کورونا کی مار سے اب غریب لوگوں کی زندگی پوری طرح مفلوج
لکھنئو میں غریب لوگوں پر دوطرفہ مار پڑ رہی ہے۔ ایک تو کورونا زندگی کو پہلے ہی اجیرن بنا چکی ہے۔ دوسری طرف پٹری دوکانداروں سے پولس کی ناجائز وصولی نے ان کے مسائل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

لکھنئو۔ بڑھتی بے روزگاری، پولیس کی ناجائز وصولی اور کورونا کی مار نے اب غریب لوگوں کی زندگی کو پوری طرح مفلوج کردیا ہے۔ بظاہر حالات بہتر ہوتے نظر آتے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ روز کھانے کمانے اور روز کنواں کھود کر پانی پینے والوں کے لیے زمین پوری طرح  تنگ ہوگئی ہے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنئو میں غریب لوگوں پر دوطرفہ مار پڑ رہی ہے۔ ایک تو کورونا زندگی کو پہلے ہی اجیرن بنا چکی ہے۔ دوسری طرف پٹری دوکانداروں سے پولس کی ناجائز وصولی نے ان کے مسائل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔


اس ضمن میں مسلسل شکایتیں موصول ہونے کے بعد معروف سماجی کارکن اور پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے صدر سید بلال نورانی نے آواز بھی اٹھائی تھی اور اس بد عنوانی اور پولس کی زیادتی کو روکنے کے لئے اعلیٰ حکام و افسران سے بھی بات کی تھی۔ ساتھ ہی موقع پر پہنچ کر نخاس، رکاب گنج اور امین آباد کے پٹری دوکانداروں کے مسائل بھی سنے تھے۔ سید بلال نورانی کی پیش رفت کے بعد وصولی پر کچھ دن کے لئے تو لگام لگی تھی لیکن اب ایک بار پھر پولس کے ذریعے غریب دوکانداروں سے ناجائز وصولی کی بات سامنے آرہی ہے۔


معروف صحافی و دانشور عامر صابری کہتے ہیں کہ عوام پریشان ہیں، خوشگوار زندگی کا تصور ہی محال ہو چکا ہے۔ لوگ دو وقت کے کھانے کے لئے زندگی کی جدوجہد میں لگے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کے تحفظ کے لئے تعینات کئے گئے لوگ ہی ان کا استحصال کررہے ہیں۔ عامر صابری تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پولس ناجائز وصولی کے ساتھ ساتھ متعصب رویے بھی اختیار کررہی ہے۔ عامر صابری کے مطابق یوں تو بیشتر خوانچے داروں اور پٹری والوں سے وصولی کی جاتی ہے لیکن نام پوچھنے کے بعد اس وصولی کی رقم اور پولس کی گالیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یا تو یہ سب اعلی سیاسی منصبوں پر فائز لوگوں کے اشارے پر ہو رہاہے یا پھر حکومت نے اپنا کنٹرول کھو دیاہے ۔ کچھ پٹری دوکانداروں نے نام  نہ بتانے کی درخواست کرتے ہوئے پولس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ پیسہ نہ دئے جانے کی صورت میں انہیں بے پناہ گالیاں بھی دی جاتی ہیں اور جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں تک دیدی جاتی ہیں۔  وصولی کی شکایتیں صرف دوکانداروں سے ہی نہیں بلکہ موٹر سائکل اور اسکوٹر چلانے والوں سے بھی مل رہی ہیں ، گاڑیاں روکنا،دھمکانا، چالان کرنا اور اس کے ساتھ ہی ناجائز طور پر رقم وصول کرنا ایک عام سی بات ہے۔۔


یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بدلتے حالات اور تقاضوں کے پیش نظر لوگوں کی مایوسیاں بڑھی ہیں۔ جس طرح کچھ اسپتالوں کے نظام اور کچھ مفاد پسند  ڈاکٹروں کے رویوں سے بدظن ہوئے ہیں اسی طرح پولس پر سے بھی ان کا یقین اٹھتا جارہاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کورونا سے جنگ جیتنے کے لئے لوگوں کی مدد کی جائے انکے روزگار کے وسائل بہتر بنائے جائیں، غریبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ لیکن بدعنوان اور بے ضمیر لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لئے غریبوں کا خون بھی پی رہے ہیں اور حکومت کو بھی بدنام کررہے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 17, 2020 01:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading