ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا سے ٹھیک ہونے کے تین مہینے بعد لگے گا ویکسین کا ٹیکہ ، مرکز نے جاری کی ہدایت

COVID-19 vaccination: مرکز نے کہا کہ ٹیکہ کاری سے پہلے کورونا وائرس انفیکشن کی جانچ کیلئے شخص کے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔

  • Share this:
کورونا سے ٹھیک ہونے کے تین مہینے بعد لگے گا ویکسین کا ٹیکہ ، مرکز نے جاری کی ہدایت
COVID-19 vaccination: مرکز نے کہا کہ ٹیکہ کاری سے پہلے کورونا وائرس انفیکشن کی جانچ کیلئے شخص کے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔

نئی دہلی : ملک میں کورونا وائرس انفیکشن سے شفایاب ہوئے لوگوں کی ٹیکہ کاری اب تین مہینے بعد ہوگی ۔ کورونا ٹیکہ کاری کے معاملہ پر مرکزی حکومت کو مشورہ دینے والے ایکسپرٹ گروپ نے یہ مشورہ مرکزی حکومت کو دیا تھا ، جس کو وزارت صحت نے قبول کرلیا ہے ۔ ان مشوروں میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن سے ٹھیک ہوجانے کے بعد ٹیکہ کاری کو تین مہینے کیلئے ملتوی کیا جاسکتا ہے ۔


اس کے علاوہ جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ٹیکہ کاری سے پہلے کورونا وائرس انفیکشن کی جانچ کیلئے کسی شخص کا ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہدایات کے مطابق اگر شخص کووڈ ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے بعد متاثر پایا جاتا ہے ، تو دوسری ڈوز ٹھیک ہونے کے تین ماہ بعد لگائی جانی چاہئے ۔ ساتھ ہی سبھی دودھ پلانے والی خواتین کیلئے ٹیکہ کاری کا مشورہ دیا گیا ہے ۔


مرکزی وزارت صحت نے کہا کہ اگر کوئی شخص سنگین بیماری کی وجہ سے اسپتال یا آئی سی یو میں داخل رہا ہے ، تو ٹھیک ہونے کے چار سے آٹھ ہفتے کے بعد ویکیسن کا ٹیکہ لگوا سکتا ہے ۔ وزارت نے اپنی ہدایات میں کہا کہ ایک شخص ویکیسن لگوانے کے 14 دنوں کے بعد خون عطیہ کرسکتا ہے اور کورونا متاثر شخص آرٹی ۔ پی سی آر ٹٰیسٹ میں منفی آنے کے 14 دنون کے بعد خون عطیہ کرسکتا ہے ۔


ہدایات میں دودھ پلانے والی خواتین کو ٹیکہ لگانے کا مشوریہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن سے پہلے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بتادیں کہ ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ ایک شخص کے کورونا پازیٹیو ہونے کا ثبوت فوری طور پر دیتا ہے ۔ اس کا استعمال بڑے پیمانے پر لوگوں کے کورونا پازیٹیو ہونے کی جانچ کیلئے کیا جاتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 19, 2021 06:37 PM IST