உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی کے مذہبی مقامات پھر سے ہورہے ہیں گلزار ، لوٹی رونق 

    حالانکہ لاک ڈاون کی وجہ سے عام لوگ اب بھی کم ہی آرہے ہیں ۔

    حالانکہ لاک ڈاون کی وجہ سے عام لوگ اب بھی کم ہی آرہے ہیں ۔

    ایک لمبے عرصے سے کورونا کی پابندیوں کی وجہ سے ویران رہنے کے بعد دہلی کے مذہبی مقامات پھر سے رونق کی جانب لوٹ رہے ہیں ۔ مندر ، مسجد ، گردوارے اور درگاہیں کم تعداد میں عوام و زائرین کو زیارت نماز اور درشن کی اجازت دے رہے ہیں ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : راجدھانی دہلی کے مذہبی مقامات پر لاک ڈاﺅن کے شروع ہوتے ہی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں ، جس کے بعد جامع مسجد دہلی سے لے کر مندر ، چرچ اور درگاہیں سبھی کو پوری طرح سے بند کردیا گیا تھا ۔ تاہم ایک لمبے عرصے سے کورونا کی پابندیوں کی وجہ سے ویران رہنے کے بعد دہلی کے مذہبی مقامات پھر سے رونق کی جانب لوٹ رہے ہیں ۔ مندر ، مسجد ، گردوارے اور درگاہیں کم تعداد میں عوام و زائرین کو زیارت نماز اور درشن کی اجازت دے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ مذہبی مقامات سے وابستہ افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ دہلی حکومت کو اپنی گائڈ لائنس کی وضاحت کرنی چاہئے کیونکہ گائڈ لائن میں کہا گیا ہے کہ مذہبی مقامات کھلیں گے ، لیکن عوام کو داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی ۔ عوام پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد مذہبی مقامات کیوں کھولے جارہے ہیں ، یہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔

    دہلی کے ملکا گنج کے مہندر سنگھ اپنی شادی کی سالگرہ کے موقع پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ گوری شنکر مندر دیکھنے آئے تھے ، انہیں چاندنی چوک کے اس مشہور مندر میں پہنچنے کے بعد تھوڑا مایوس ہونا پڑا کیونکہ مندر صرف صبح 11 بجے تک کھل رہا ہے اور بعد میں شام کو چار بجے کے بعد ہی مندر کھلتا ہے ، جس کی وجہ سے اہل خانہ کے کچھ افراد کو باہر سے درشن کرنے کا موقع ملا۔ مہندر نے کہا کہ سماجی دوری اور تمام احتیاط کے ساتھ مذہبی مقامات کو پوری طرح سے کھول دینا چاہئے ۔ کیونکہ یہ بھگوان کا گھر ہے ، جب تمام جگہیں کھول دی گئیں تو اس کو کھولنے میں کیا کوئی برائی نہیں ۔ لیکن لوگوں کو بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔

    وہیں دہلی کی مشہور درگاہ نظام الدین اولیا کو مکمل طور پر نہیں کھولا گیا ہے ، حالانکہ دور دراز سے آنے والے زائرین کودور ہی سے زیارت کی اجازت دی جارہی ہے ۔ درگاہ کے سامنے درگاہ کے بند ہونے کے لئے ابھی تک ایک بورڈ موجود ہے ۔ چادر اور پھول فروخت کرنے والے دکاندار اس صورتحال سے پریشان ہیں ، کیونکہ لوگوں کے نہ آنے اور درگاہ کے بند ہونے کی وجہ سے ان کا کام نہیں چل رہا ہے اور دو روٹی کمانا مشکل ہورہا ہے ۔ دوسری طرف درگاہ سے وابستہ افراد حکومت سے درگاہ اور مذہبی مقامات کو مکمل طور پر کھولنے کے لئے ہدایت نامہ جاری کرنے کی اپیل کر رہے ہیں ۔ درگاہ کمیٹی سے وابستہ سید کاشف نظامی نے اپیل کی کہ سرکار کو واضح گائڈ لائن دینی چاہئے اور مذہبی مقامات کو پوری طرح سے کھول دینا چاہئے ۔

    وہیں دہلی شاہی جامع ایک طویل عرصے سے بند رہنے کے بعد گذشتہ ہفتے کھول دی گئی ، جس کے بعد مسجد میں نمازی لوٹ آئے ہیں اور سماجی دوری کے ساتھ نماز ادا کی جارہی ہے ۔ حالانکہ لاک ڈاون کی وجہ سے عام لوگ اب بھی کم ہی آرہے ہیں ۔ مسجد کے ذمہ داروں نے بتایا کہ عبادت گاہ کھولنے کے لئے کہا گیا تھا ، اس لئے مسجد کھول دی گئی ہے ۔ تاہم اگر لوگوں کو روکنے کی بات ہے ، تو وہ انتظامیہ کا کام ہے ، لیکن سرکار کو ایسی گائڈ لائن کو دیکھنا چاہئے جو واضح نہ ہو۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: