உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو عدالت سے نہیں ملی راحت، 5 دنوں کی ریمانڈ پر بھیجے گئے

    اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو5 دنوں کی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

    اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو5 دنوں کی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

    عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو عدالت سے راحت نہیں ملی ہے۔ عدالت نے امانت اللہ خان کی پانچ دنوں کی ریمانڈ بھائی ہے۔ اے سی بی نے امانت اللہ خان کی 10 دنوں کی ریمانڈ مانگی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو عدالت سے راحت نہیں ملی ہے۔ عدالت نے امانت اللہ خان کی پانچ دنوں کی ریمانڈ بھائی ہے۔ اے سی بی نے امانت اللہ خان کی 10 دنوں کی ریمانڈ مانگی تھی۔ اے سی بی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ امانت اللہ خان کی چار دن کی ریمانڈ میں سے دو دن ان کے علاج میں گزر گئے۔ لہٰذا امانت اللہ خان کی ریمانڈ بڑھائی گئی۔

      اے سی بی کے وکیل نے کہا کہ معاملے میں کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کرنی ہے، صرف ملک میں ہی نہیں بیرون ممالک میں بھی لین دین کئے جانے کا شک ہے۔ دبئی کا بھی لنک ہے۔ اے سی بی کے وکیل نے کہا کہ ذیشان حیدر نام کے شخص کے ساتھ کروڑوں روپئے کا لین دین ہوا ہے۔  17 کروڑ، 4 کروڑ اور 60 لاکھ ایسے کئی اماونٹ کے ٹرانجکشن ہوا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      مدھیہ پردیش: جیلر کے ذریعہ پانچ مسلم نوجوانوں کی داڑھی کاٹنے سے شدید ناراضگی، وزیر داخلہ سے کارروائی کا مطالبہ

      یہ بھی پڑھیں۔

      کرناٹک میں حجاب پر پابندی نہیں، صرف یونیفارم پہننے کا دیا حکم، سپریم کورٹ میں حکومت کا جواب 

      وہیں عدالت میں اے سی بی نے کہا کہ لڈن کو گرفتار کیا جاچکا ہے، وہ کل دہلی آجائے گا۔ اے سی بی نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ کس طرح سے ایک اسکول کو دوکان میں تبدیل کردیا گیا ہے اور پیسہ بنایا گیا ہے۔ اے سی بی نے عدالت سے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ہم جن کے نام لے رہے ہوں، وہ غلط ہوں، لیکن جب تک جانچ نہیں ہوگی، تب تک کچھ بھی سامنے نہیں آئے گا۔

      وہیں اس پر امانت اللہ خان کے وکیل نے کہا کہ معاملے میں ایک ملزم حامد علی کو ساکیت کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔ اے سی بی عدالت کو یہ کیو ںنہیں بتا رہی ہے۔ دوسری جانب، اے سی بی نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ کچھ پیسے باہر بھیجے گئے ہیں۔ اے سی بی نے کہا کہ دبئی میں وہاں کوئی ذیشان حیدر نام کا شخص ہے، جسے کروڑوں روپئے بھیجے گئے۔ دعویٰ کیا گیا کہ کچھ پیسہ ایک سیاسی پارٹی کو گیا، جس سے پوسٹر اور پمفلیٹ بنائے گئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: