ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں کوروناوائرس سے اموات میں اضافہ، 24 گھنٹے میں 11 ہلاکتیں، کووڈ-19سے موت پر ماہرین نے اٹھائے سوال

کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 11 کووڈ-19 مثبت افراد کی موت ہوئی جو اس وقفہ میں ابھی تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان اموات میں سب سے زیادہ 7 مریضوں کی موت کشمیر کے سب سے بڑے اسپتال اسکمز سرینگر میں ہوئی۔ اسکمز سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق جان نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ چار مریضوں کی موت آج دن میں ہوئی جبکہ تین کی موت کل رات کو ہوئی تھی۔

  • Share this:
کشمیر میں کوروناوائرس سے اموات میں اضافہ، 24 گھنٹے میں 11 ہلاکتیں،  کووڈ-19سے موت پر ماہرین نے اٹھائے سوال
علامتی تصویر

کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 11 کووڈ-19 مثبت افراد کی موت ہوئی جو اس وقفہ میں ابھی تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان اموات میں سب سے زیادہ 7 مریضوں کی موت کشمیر کے سب سے بڑے اسپتال اسکمز سرینگر میں ہوئی۔ اسکمز سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق جان نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ چار مریضوں کی موت آج دن میں ہوئی جبکہ تین کی موت کل رات کو ہوئی تھی۔ ڈاکٹر جان کے مطابق جو مریض فوت ہوئے وہ سبھی کووڈ-19 کے علاؤہ کسی نہ کسی اور مرض میں بھی مبتلا تھے۔ تین مریضوں کی موت گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے تحت چلائے جارہے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں ہوئی جو پچھلے کئی دنوں سے سرخیوں میں رہا ہئے۔ ایک مریض کی موت جی ایم سی سرینگر کے ہی چسٹ ڈیزیز اسپتال میں ہوئی جو ایک کووڈ-19 لیول تھری اسپتال قرار پایا ہے۔ فوت ہوئے مریضوں میں پانچ کا تعلق جنوبی کشمیر سے تھا جبکہ دوأدو کا تعلق سرینگر اور بڈگام ضلع سے اور ایک۔ایک کا تعلق بارہمولہ اور کپواڑہ سے تھا۔


ایس ایم ایچ ایس اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہئے کہ یہ اسپتال ایک نان کویڈ اسپتال ہئے اور اس کے باوجود کشمیر میں  کوروناوائرس 19 کے کھاتے میں ڈالے گئے 36 مریض اسی اسپتال میں فوت ہوئے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ایمرجنسی حالات میں یہاں داخل کئے گئے لیکن  کوروناوائرس پازیٹیو پائے جانے کے بعد یہاں سے چسٹ ڈیزیز اسپتال منتقل کئے گئے۔ 30 جون کو ابرار نامی چوبیس سالہ نوجوان ایک حادثہ میں زخمی ہوکر یہاں پہنچایا گیا۔ کچھ دیر بعد مریض کو کویڈ19 مثبت قرار دیا گیا اور فوری طور چسٹ ڈیزیز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کچھ دیر بعد اس کی موت ہوگئی۔


ابرار کے اہل خانہ کا الزام ہئے کہ چسٹ ڈیزیز اسپتال میں نہ ہی کوئی نیورولوجسٹ ہئے اور نہ ہی ایسے معاملوں کا علاج کرنے کا کوئی انتظام۔ اس معاملہ سے ایک ہفتہ قبل ایک گھریلو جھگڑے میں شدید طور زخمی ہندواڑہ کا ایک نوجوان کو بھی کچھ ایسے ہی حالات میں ایس ایم ایچ ایس اسپتال انتظامیہ نے چسٹ ڈیزیز اسپتال منتقل کیا جہاں اسکی موت واقع ہوئی۔ یہ ایک پولیس کیس بھی تھا لیکن اسے بھی کویڈ کھاتے میں ڈالا گیا۔ اسپتال انتظامیہ اسے کووڈ-19 قواعد و ضوابط کا نام دے رہی ہے لیکن کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ضوابط کا بہانہ دے کر کچھ لوگ اپنے فرائض سے منہ موڑ رہے ہیں اور مریضوں کو مرنے کے لئے کووڈ-19 وارڈوں کے اندھیروں میں دھکیلا جارہا ہے۔


واضح رہے کہ چسٹ ڈیزیز اسپتال کے ہیڈ چسٹ ڈیزیز ڈاکٹر نوید نذیر شاہ نے نو مئی کو خود اس معاملہ کو لیکر ایک خط گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے پرنسپل کے نام ارسال کیا۔ جس میں ایسے مریضوں کی منتقلی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا یہ خط نیوز 18 اردو کے پاس ہئے جسمیں انھوں نے صاف لکھا ہے کہ جن مریضوں کی کووڈ-19 علامتیں ظاہر نہیں یا جو دیگر ایسی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کا علاج چسٹ ڈیزیز اسپتال سرینگر میں ممکن نہیں ان کو یہاں منتقل کیوں کیا جاتا ہے۔ اس خط کے بعد بھی ایسا نہیں لگتا کہ حالات کچھ بدلے ہیں۔کشمیر کی معروف معالج ڈاکٹر فرحت جبین کہتی ہیں کہ ایمرجنسی معاملوں میں کوئی بھی ڈاکٹر مریض کے علاج میں لعت و لعل نہیں کرسکتا ۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر سرکار نے تمام ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان فراہم کیا ہے تو پھر یہ انکار یا بے وجہ منتقلی کیوں؟۔

سرکار کی طرف سے حال ہی میں بنائی گئی مشاورتی کونسل میں شامل ایک معالج نے بھی نیوز 18 کو بتایا کہ ایمرجنسی معاملوں میں منتقلی آئی سی ایم آر کے قواعد کے خلاف ہے اور اگر منتقلی ضروری ہوجاتی ہے تو وہ ایسے اسپتال میں ہونی چاہئے جہاں مریض کے علاج کے لئے تمام ضروری سہولیات موجود ہوں۔ کئی لوگ سوال کررہے ہیں کہ کشمیر کا سب سے بڑا ثانوی طبی ادارہ ایسے معاملوں کے لئے مخصوص کیوں نہیں کیا جاتا جہاں پر حال ہی میں انفیکشس ڈیزیز کے لئے الگ سے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔

ادھر ڈاکٹرس ایسوسیشن کشمیر نے بھی کویڈ19 کے کھاتے میں ڈالی گئی تمام اموات کا آڈیڈ کرنے کا مطالبہ کیا ہئے۔ ایسوسیشن کے صدر ڈاکٹر سہیل نایک نے کہا کہ حکومت ان اموات کی صحیح وجوہات کا پتہ لگائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ محکمہ صحت میں ذرایع سے پتہ چلا ہے کہ کچھ سینئر ڈاکٹر کووڈ-19 وارڈز میں جانے سے کتراتے ہیں اور ابھی تک کم سے کم لاپرواہی کے چار معاملوں کی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آنی باقی ہے۔

کشمیر میں جون کے مہینے میں 5048 افراد کویڈ 19مثبت پائے گئے ہیں اور 73 مریضوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ جولائی کے پہلے تین دنوں میں ہی 21 مریض فوت ہوچکے ہیں ایسے حالات میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ طبی امداد میں بہتری لانے کی سخت ضرورت ہے۔
First published: Jul 02, 2020 11:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading