ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ویکسینیشن کے بعد بھی لوگ کیوں ہورہے ہیں کورونا کے شکار؟ ڈاکٹرس نے بتائی یہ بڑی وجہ

Covid 19 in Delhi: ملک کے مشہور ماہر امراض قلب ڈاکٹر کے کے اگروال کی دیر رات موت کے بعد ویکسینیشن کو لے کر زیادہ بحث ہونے لگی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کے کے اگروال کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز لے چکے تھے ، لیکن وہ کورونا کو مات دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔

  • Share this:
ویکسینیشن کے بعد بھی لوگ کیوں ہورہے ہیں کورونا کے شکار؟ ڈاکٹرس نے بتائی یہ بڑی وجہ
ویکسینیشن کے بعد بھی لوگ کیوں ہورہے ہیں کورونا کے شکار؟ ڈاکٹرس نے بتائی یہ بڑی وجہ

نئی دہلی : کورونا وائرس سے بچاو کیلئے کورونا ویکسینیشن کی مہم زوروں پر چل رہی ہے ۔ ملک بھر میں اب تک 18 کروڑ 40 لاکھ 53 ہزار 149 افراد کو ویکسین ڈوز دی جاچکی ہے ، لیکن اس کو لے کر بھی سوالات کھڑے ہورہے ہیں کہ ویکسین لینے کے بعد بھی لوگ کورونا کی زد میں تیزی سے آرہے ہیں ۔


ملک کے مشہور ماہر امراض قلب ڈاکٹر کے کے اگروال کی دیر رات موت کے بعد ویکسینیشن کو لے کر زیادہ بحث ہونے لگی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کے کے اگروال کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز لے چکے تھے ، لیکن وہ کورونا کو مات دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ تقریبا ایک ہفتہ سے ان کا علاج ایمس نئی دہلی میں ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم کررہی تھی ۔ حالت میں کوئی بہتری نہیں ہونے کے بعد دیر رات ان کی موت ہوگئی ۔


اس کے بعد اب یہ بحث تیز ہورہی ہے کہ اگر کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز ، پہلی یا دوسری لینے کے بعد آخر کس طرح کی احتیاط برتنی چاہئے ؟ یا پھر ویکسین لینے کے بعد کورونا سے کس طرح سے بچا جاسکے ؟ اس کو لے کر ڈاکٹروں کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی ہے ۔


انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیدار اور فائنانس سکریٹری ڈاکٹر انل گوئل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے کے اگروال کے معاملات میں کئی الگ الگ کمپلیکیشنز ہوسکتی ہیں ۔ اس میں ایک بڑی وجہ کوموڈیٹی ڈیزیز کا ہونا بھی ہے اور اس کی وجہ سے خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔

ڈٓاکٹر گوئل بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ اگر کسی کو کورونا کی ایک یا دو ڈوز لگ جائے تو وہ کورونا کی زد میں نہیں آئے گا ، اس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ سبھی احتیاط برتی جائیں جو ضروری ہیں ۔

ان احتیاط کا برتنا ضروری

بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں نہ جائیں ۔

ہاتھوں کی لگاتار صفائی ضروری ہے۔

ماسک ضرور پہننا چاہئے ۔

ورک فرام ہوم کرنے والے بھی اوور ٹائم ورک نہ کریں ۔

وہ سبھی ڈاکٹر جو آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی کررہے ہیں ، ان سب کیلئے ضروری ہے کہ وہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی نہ کریں ۔

ویکسین کی ڈوز لینے کے بعد بھی ڈٓاکٹرس کو وقت کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔

ڈٓاکٹرس جو مسلسل کورونا ڈیوٹی کرہے ہیں ، ان کے تیزی سے کورونا کی زد میں آنے کا زیادہ اندیشہ ہے ۔

60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو اس معاملہ میں زیادہ احتیاط برتنی چاہئے ۔

70 سے 90 فیصد میں ویکسین کے بعد اینٹی باڈی کا بننا ضروری

ڈٓاکٹر گوئل بتاتے ہیں کہ کورنا ویکسین کی پہلی ڈوز لینے کے بعد ضروری ہے کہ ایک ماہ کے بعد اپنا اینٹی باڈی ٹیسٹ کروایا جائے یا اس کا چیک اپ کروایا جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 70 سے 90 فیصدی میں کورونا ویکسین کے بعد اینٹی باڈی کا بننا ضرور دیکھا گیا ہے ۔ وہیں ویکسین کے بعد کورونا انفیکشن ہونے کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ متعلقہ شخص کی امیونٹی پاور کم ہے ۔

ڈاکٹر گوئل یہ بھی بتاتے ہیں کہ کورونا ویکسینیشن ہونے کے بعد یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ان کو ویکسین لگ گئی تو کورونا نہیں ہوگا ۔ یہ میوٹینٹ وائرس ہے ، اس لئے خود کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 18, 2021 04:51 PM IST