உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی آنے والے فضائی مسافروں کے لئے کووڈ۔19 کی منفی رپورٹ ضروری، بسیں صرف اندرون ریاست ہی چلے گی

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    اعلی سطحی ورچوئیل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آدتیہ ناتھ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ پنچایت انتخابات ختم ہونے کے بعد دیہی علاقوں میں ریاست گیر مہم چلائی جائے، تاکہ کووڈ۔19 سے متاثرہ لوگوں کی اسکریننگ کی جاسکے۔

    • Share this:
      اترپردیس کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ (Yogi Adityanath ) نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اتر پردیش اسٹیٹ روڈ ویز ٹرانسپورٹ کارپوریشن (Uttar Pradesh State Roadways Transport Corporation) کی بسیں اگلے 15 دن تک صرف ریاست کے اندر ہی چلیں گی۔ جبکہ یوپی کا فضائی سفر کرنے والوں کے لئے COVID-19 کی منفی رپورٹ لازمی کردی گئی ہے۔ایک اعلی سطحی ورچوئیل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آدتیہ ناتھ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ پنچایت انتخابات ختم ہونے کے بعد دیہی علاقوں میں ریاست گیر مہم چلائی جائے، تاکہ کووڈ۔19 سے متاثرہ لوگوں کی اسکریننگ کی جاسکے۔ یوپی حکومت نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ مہم پانچ دن تک جاری رہے گی۔


      بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ علامات کے شکار افراد کو تیزی سے اینٹیجن ٹیسٹ کروانا چاہئے۔ پنچایت بھون یا اسکولوں یا کسی اور عوامی عمارت میں قرنطینہ مراکز قائم کیے جائیں۔اسکریننگ کے دوران اعلی خطرہ والے افراد پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت قومی لاک ڈاؤن ملک میں جاری کورونا وائرس کی تباہ کن دوسری لہر کا سلسلہ توڑنے کا واحد راستہ ہے۔ اسی ضمن میں ملک کے سیاسی لیڈران کورونا وائرس کی منتقلی کو روکنے کا واحد راستہ ’’قومی لاک ڈاؤن‘‘ ہی کو بتارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کووڈ۔19 ٹاسک فورس (Covid-19 task force) ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن کے لئے سخت زور دے رہی ہے۔ یہ ٹاسک فورس ماہرین پر مشتمل ہے۔ جو کہ مرکزی حکومت کو وقتا فوقتا مشورے دیتی آرہی ہے۔

      ہندوستان میں کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے کیسوں میں بھیانک انداز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ وہیں کورونا سے متاثر ہو کر مرنے والوں کی تعداد میں بھی لگا تار اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔کووڈ۔19 کام کرنے والے ٹاسک فورس کے اراکین دو ہفتوں تک جاری رہنے والے قومی لاک ڈاؤن کی تجویز کر رہے ہیں۔ ہفتہ کے روز ہندوستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں غیر معمولی 4.01 لاکھ کووڈ۔19 کے کیسوں اور 3523 اموات کی اطلاع ملی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: