உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں ملیٹنسی کاگڑھ شوپیاں کوروناوائرس کے گھیرے میں 2دن میں 24 معاملے درج 

    وینٹی لیٹر پر رکھے گئے مریضوں کیلئے اس نے مرنے کے رسک کو چالیس سے اٹھائیس فیصد تک کم کردیا ۔ آکسیجن کی ضرورت والے مریضوں کیلئے اس نے پچیس سے بیس فیصد تک مرنے کے رسک کو کم کردیا ۔

    وینٹی لیٹر پر رکھے گئے مریضوں کیلئے اس نے مرنے کے رسک کو چالیس سے اٹھائیس فیصد تک کم کردیا ۔ آکسیجن کی ضرورت والے مریضوں کیلئے اس نے پچیس سے بیس فیصد تک مرنے کے رسک کو کم کردیا ۔

    جموں کشمیر میں بدھ کو کووڈ 19 کے 27 نئے معاملے درج کئے گئے جن میں سے 14 کا تعلق جنوبی کشمیر میں شوپیاں کے ہیر پورہ علاقے سے ہے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر میں بدھ کو کووڈ 19 کے 27 نئے معاملے درج کئے گئے جن میں سے 14 کا تعلق جنوبی کشمیر میں شوپیاں  کے ہیر پورہ علاقے سے ہے۔ سات بانڈی پورہ سے ،چار کپواڑہ سے اور ایک ایک بارہمولہ اور اننت ناگ سے ۔ شوپیاں کا ہیر پورہ علاقہ کویڈ 19 کا نیا ہاٹ سپاٹ بن رہا ہئے۔پچھلے دو دن میں یہاں 24 نئے معاملے سامنے آئے ہیں ۔ اس طرح شوپیاں ضلع میں کویڈ19 سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 46 ہوگئی ہے۔

    حالانکہ شوپیاں میں پہلے دو معاملے 30 مارچ کو سامنے آئے تھےلیکن پھر  ایک ہفتے تک کوئی معاملہ منظرعام پر نہیں آیا۔ 5 اپریل کو 4 اور افراد کووڈ مثبت پائے گئے ۔ 3 دن بعد یعنی 8 اپریل کو 6 نئے معاملے سامنے آئے جن میں سے 4 اکیلے ہیر پورہ علاقہ سے تھے۔ اس کے بعد ناول کرونا نے یہاں رفتار پکڑی اور ضلع کے ہیر پورہ گاؤں کو خاص طور سے اپنا نشانہ بنایا۔
    بدھ کی شام تک ہیر پورہ میں 34 معاملہ درج کئے گئے۔ شوپیاں ملٹنسی کا گڑھ رہا ہے اور آئے دن یہاں سیکورٹی دستوں اور ملی ٹنٹوں کے بیچ تصادم آرائی ہوتی رہتی ہئے۔بدھ کو بھی ایک انکاؤنٹر میں یہاں چار ملی ٹنٹ مارے گئے۔
    جموں کشمیر میں 27 نئے معاملوں کے ساتھ کویڈ مثبت معاملے  407 ہوگئے ہیں۔جن میں سے 351 کشمیر اور 56 جموں میں درج کئے گئے۔92 مریض ابھی تک صحتیاب ہوئے ہیں اور 5 کی موت واقع ہوئی ہئے"۔ پرنسپل سیکریٹری پلاننگ ،روہت کنسل نے ٹویٹ کے ذریعے اطلاع دی ۔  سب سے زیادہ معاملات ابھی تک
    بانڈی پورہ ضلع میں درج ہیں جہاں مریضوں کی کل تعداد 97 ہوگئی ہئے۔ ادھر جموں کشمیر حکومت کے مطابق انھوں نے ٹیسٹنگ کی شرح تیز کردی اور آنے والے دنوں میں کویڈ مثبت معاملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
    Published by:sana Naeem
    First published: