ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دردناک: 6 سال کی معصوم کے ساتھ حیوانیت، بچی کے پرائیویٹ پارٹ کو بری طرح کچل ڈالا، سرجری کرنا بھی ہوا مشکل

یوپی کے ہاپوڑ میں 6 سالہ معصوم بچی کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جسے جان کر رونگٹے کھڑے گئے۔ بتادیں کہ چھ سالہ معصوم کے ساتھ انتہائی بے دردی سے بچی کا ریپ اور پھر اس کے پرائیویٹ پارٹ کو کچل دینے کے معاملے نے سب کے ہوش اڑا ڈالے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچی کے ساتھ کی گئی حیوانیت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ بچی کے پرائیویٹ پارٹس بری طرح زخمی ہیں جن کی سرجری کرنا بھی مشکل ہے۔

  • Share this:
دردناک: 6 سال کی معصوم کے ساتھ حیوانیت، بچی کے پرائیویٹ پارٹ کو بری طرح کچل ڈالا، سرجری کرنا بھی ہوا مشکل
علامتی تصویر

یوپی کے ہاپوڑ میں 6 سالہ معصوم بچی (minor girl rape) کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جسے جان کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ بتادیں کہ چھ سالہ معصوم کے ساتھ انتہائی بے دردی سے بچی کا ریپ (Brutal rape) اور پھر اس کے پرائیویٹ پارٹ کو بری طرح کچل دینے کے معاملے نے سب کے ہوش اڑا ڈالے ہیں۔ ہاپوڑ ضلع کے گڑھ مکتيشور میں 6 سال کی معصوم بچی سے درندگی کی ایسے واردات انجام دی گئی ہے جیسے دہلی کے نربھیا عصمت ریزی معاملے کی یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ گڑھ مکتيشور کے ایک گاؤں میں گھر کے باہر کھیل رہی چھہ سال کی معصوم بچی کو ایک شخص نے موٹر سائیکل پر اغوا کیا۔ کچھ گھنٹوں بعد یہ بچی ایک کھیت میں پڑی ملی۔ میڈیکل جانچ میں بچی کا ریپ کیے جانے کی تصدیق ہوئی۔


ہاپوڑ ضلع اسپتال میں شروعاتی علاج کے دوران بچی کی حالت بگڑنے کے بعد بچی کو میرٹھ میڈیکل کالج منتقل کیا گیا ہے۔ میرٹھ میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں کے مطابق بچی کے ساتھ کی گئی حیوانیت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ بچی کے پرائیویٹ پارٹس بری طرح زخمی ہے جن کی سرجری کرنا بھی مشکل ہے۔ پیشاب کے لیے بھی نلی لگا کر ڈاکٹروں کو الگ سے راستہ بنانا پڑا ہے ، میڈیکل کالج میں بچی کا علاج کر رہے ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی ہوش میں آئی لیکن اس واقعہ سے صدمے میں ہے اور بےحد گھبرائی ہوئی ہے۔


علامتی تصویر

وہیں چھہ سالہ بچی کے ساتھ انجام دی گئی اس درندگی کے بعد سماجی اور سرکاری تنظیموں کے ذمہ دران کا بھی اسپتال پہنچنا جاری ہے۔ اُتر پردیش خواتین کمیشن کی ممبر راکھی تیاگی نے اسپتال پہنچ کر بچی کا حال دریافت کیا اور بچی کے والدین سے بات کی اور یقین دلایا کہ بچی کے علاج میں کسی طرح کی کمی نہیں آنے دی جائےگی اور نہ ہی مجرم کو بخشا جائیگا۔

وہیں شروعات میں لاپرواہی برت رہی پولیس بھی اب اس معاملے میں سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے جانچ میں مصروف ہوگئی ہے۔ پولیس نے مجرم کا اسکیچ جاری کرتے ہوئے مجرم کی تلاش کے لیے 6 ٹیمیں لگائی ہیں۔ ایس پی سنجیو سمن کا کہنا ہے کہ جانکاری حاصل کرنے کے بعد معاملے میں ایس او جی اور سرویلانس ٹیم کام کر رہی ہے اور مجرم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Aug 09, 2020 10:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading