ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بیوی نے ناجائز تعلقات سے کیا انکار تو شوہر کے دوست نے کر ڈالا بیحد ہی گھنونا کام، پولیس نے کیا سنسنی خیز انکشاف

ہریانہ کے پانی پت میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں بیحد ہی چونکانے والا راز کھولا ہے۔ .

  • Share this:
بیوی  نے ناجائز تعلقات سے کیا انکار تو شوہر کے دوست نے کر ڈالا بیحد ہی گھنونا کام، پولیس نے کیا سنسنی خیز انکشاف
ہریانہ کے پانی پت میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں بیحد ہی چونکانے والا راز کھولا ہے۔

ہریانہ کے پانی پت میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں بیحد ہی چونکانے والا راز کھولا ہے۔ دراصل پانی پت میں ایک قتل  (Murder) کے معاملے میں پولیس نے بڑا انکشاف کیا ہے۔ قلعہ تھانہ علاقے کے گاؤں  سے دس دسمبر سے لاپتہ 23 سال کے شخص کی لاش کو بھینس والا گاؤں کے پاس تالاب سے برآمد کی گئی۔ شخص کے دوستوں نے ہی اس کی بیوی کے ذڑیعے ناجائز تعلقات کو جاری نہ رکھنے کی مخالفت میں شراب پنالے کے بعد اس کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔ ثبوتوں کو مٹانے کیلئے لاش کو تالاب میں پھینک دیا تھا۔ قاتل کی نشاندہی پر قلعہ پولیس نے تالاب سے لاش برآمد کی۔


دونوں قاتل دوست گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ دراصل قلعہ تھانہ کے ایک گاؤں کا 23 سال کا شخص بھینس والا گاؤں کے پاس پائپ کی فیکٹری میں  نوکری کرتا تھا۔ شخص دس دسمبر کو روزانہ کی طرح اپنے کام پر گیا لیکن رات تک ڈیوٹی سے واپس نہیں لوٹا۔ 11 دسمبر کو شخص کے اہل خانہ نے پولیس تھانہ میں گمشدگی کی شکایت درج کرائیا ور اس کے اصل میں راجستھان اور حال ہی میں نور والا میں کرائے پر رہنے والے ایک دوست پر شک ظاہر کیا۔ ؎


قاتل ملزموں کا قبول نامہ


قلعہ تھانہ پولیس نے اوپی شخص سے جب سختی سے پوچھ گچھ کی تو اس نے قتل کرانا قبول کر لیا ملزم نے بتایا کہ اس کے دوست کی بیوی سے ناجائز تعلقات تھے۔ اب اس کی بیوی تعلقات جاری نہیں رکھنا چاہتی تھی تو ملزم نے دوست کی بیوی کو اس کے شوہر کے قتل کی دھمکی بھی دی لیکن وہ نہیں مانی۔ دس دسمبر کو ملزم شخص نے ایک دیگر دوست کے ساتھ مل کر پہلے اسے شراب پلائی اور شام  کے وقت نشہ ہونے پر دونوں نے گلا دبا کر قتل کے بعد لاش کو بھینس والا گاؤں کے پاس تالاب میں پھینک دیا۔ فی الحال پولیس نے دونوں ملزموں کو گرفتار کرکے جمعرات کو کورٹ میں پیش کرکے ریمانڈ پر لیا ہے۔ معاملے کی تحقیق جاری ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 18, 2020 01:39 PM IST