ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اس آڑ میں بدکاری کے دھندے کی اطلاع پر پولیس نے مارا چھاپہ تو دیکھ کر ڈی ایس پی کے بھی اڑ گئے ہوش

ہانسی شہر میں (Cafe) کی آڑ میں بدکاری کا کاروبار چل رہا ہے۔ ہولیس نے جمعے کو مارکیٹ میں چل رہے کیفوں پر چھاپہ ماری کی۔ پولیس کی چھاپہ ماری کی اطلاع ملتے ہی (Cafe Owners) میں ہنگامہ مچ گیا۔

  • Share this:
اس آڑ میں بدکاری کے دھندے کی اطلاع پر پولیس نے مارا چھاپہ تو دیکھ کر ڈی ایس پی کے بھی اڑ گئے ہوش
ہانسی شہر میں (Cafe) کی آڑ میں بدکاری کا کاروبار چل رہا ہے۔ ہولیس نے جمعے کو مارکیٹ میں چل رہے کیفوں پر چھاپہ ماری کی۔ پولیس کی چھاپہ ماری کی اطلاع ملتے ہی (Cafe Owners) میں ہنگامہ مچ گیا۔

ہانسی شہر میں (Cafe) کی آڑ میں بدکاری کا کاروبار چل رہا ہے۔ ہولیس نے جمعے کو مارکیٹ میں چل رہے کیفوں پر چھاپہ ماری کی۔ پولیس کی چھاپہ ماری کی اطلاع ملتے ہی (Cafe Owners) میں ہنگامہ مچ گیا۔ پولیس نے 5 کیفوں پر چھاپے مارے لیکن کچھ ہاتھ نہیں لگا۔ کیفے آپریٹر (Cafe Owners) کو پولیس کی کارروائی کی بھنک پہلے ہی لگ گئی تھی۔ ڈی ایس پی کو کیفے کے اندر کیبنوں میں رکھے گدوں اور سنگل بیڈ ملے جنہیں فورا ہٹانے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔


بتادیں کہ شہر میں کیفوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ کیفے تعلیمی اداروں کے آس پاس کھلے ہوئے ہیں۔ ان کیفوں میں اکثر جنسی کاروبار کی شکایتیں ملتی ہتی ہیں۔ کچھ (Cafe Owners) کے ذریعے جوڑوں کو کرائے پر کیبن دئے جاتے ہیں۔ آس۔پاس رہنے والے باشندوں کے ذریعے پولیس کو اس دھندے کے بارے میں شکایتیں کی جا رہی تھیں۔ جمعے کی صبح ڈی ایس پی ونود شنکر پولیس فورس کے ساتھ کارروائی کے لئے نکل پڑے اور ایس ڈی کالج کے پاس کئی کیفوں پر چھاپے مارے۔


کیفوں میں نہ چائے نہ پانی۔۔

پولیس نے کیفوں پر چھاپہ مارا تو آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی۔ کیفوں کے نام سے چل رہی دکانوں میں چائے، کافی تو دور کی بات ہے پانی کی بوتل تک نہیں ملی۔ فرضی کیفوں پر بیٹھنے کیلئے کرسی تک نہیں رکھی تھی۔ صرف کمروں کے اندر چھوٹے کیبن بنے ہوئے تھے جن میں گدے اور بیڈ لگا رکھے تھے۔ پولیس نے کیفے آپریٹرس کو سخت وارننگ دیتے ہوئے گدے ہٹانے کی ہدایات دی ہیں۔

کیفے والوں کے ٹارگیٹ پر نوجوان
شہر میں چل رہے زیادہ تر سائبر کیفے تعلیمی اداروں کے پاس کھلے ہوئے ہیں۔ کیفوں میں کیبن کی سہولیت مہا کرائی جاتی ہے۔ کیفے آریٹرس نوجوان جوڑوں کو کیبن میں بیٹھنے کیلئے ایک گھنٹے کے 200 سے اور 500 روپئے تک وصولتے ہیں۔ کئی کیفے آپریٹر یہاں آنے والے جوڑوں کو پولیس کے ساتھ سانٹھ۔گاٹھ ہونے اور سکیورٹی کا پورا بھروسہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ کیفوں پر خواتین سے بدکاری کا کاروبار کی شکایتیں بھی آس پاس کے لوگوں کے ذریعے دی جاتی ہیں۔

ڈی ایس پی نے کہی یہ بات
ڈی ایس پی ونود شکر نے بتایا کہ پولیس کو کیفوں پر مشتبہ سرگرموں کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد پولیس نے کیفوں پر چھاپہ ماری کی۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 18, 2021 01:56 PM IST