உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mohammad Zubair: ’فوجداری قانون کوہراساں کرنےکیلئےنہ کیاجائےاستعمال‘ محمد زبیر کےسلسلہ میں سپریم کورٹ نےدیابڑابیان

    محمد زبیر

    محمد زبیر

    بنچ نے کہا کہ گرفتاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے ایک تعزیری ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اسے غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ اس کے نتیجے میں فوجداری قانون سے پیدا ہونے والے سنگین ممکنہ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) نے ایف آئی آرز کے سلسلے میں عبوری ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے ’’تعزیتی ٹول‘‘ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر (Mohammad Zubair) کے خلاف فوجداری انصاف کی مشینری کو ’’انتھک محنت‘‘ سے استعمال کیا گیا۔ ان کے خلاف اتر پردیش میں نفرت انگیز تقریر کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی نمائندگی کرنے والے وکیل کی عرضی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ زبیر کو ضمانت پر ہونے پر ٹویٹ کرنے سے روک دیا جائے۔

      اپنے 20 جولائی کے فیصلے میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ایک ہی ٹویٹس کے تحت مبینہ طور پر ایف آئی آر میں ایک جیسے جرائم کا ذکر کیا گیا، زبیر کو پوری ملک میں متعدد تحقیقات کا نشانہ بنایا گیا۔ جسٹس سوریہ کانت اور اے ایس بوپنا پر مشتمل بنچ نے کہا جیسا کہ اوپر بیان کردہ حقائق سے ظاہر ہے، فوجداری انصاف کی مشینری کو درخواست گزار (زبیر) کے خلاف مسلسل کام کیا گیا ہے۔

      بنچ نے 21 صفحات کے فیصلے میں کہا نتیجتاً وہ (محمد زبیر) مجرمانہ عمل کے ایک شیطانی چکر میں پھنس گیا ہے جہاں یہ عمل خود ہی سزا بن گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے زبیر کی درخواست پر اپنا فیصلہ سنایا جس میں ان کے خلاف اتر پردیش میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

      مزید پڑھیں: 

      سپریم کورٹ نے مبینہ نفرت انگیز تقریر کے الزام میں اتر پردیش میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں زبیر کو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور مقدمات کو دہلی پولیس کے خصوصی سیل کو منتقل کر دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے کہا کہ پولیس افسران کو فوجداری انصاف کے عمل کے مختلف مراحل میں بشمول تفتیش کے دوران افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن یہ اختیار ’بے لگام‘ نہیں ہے۔

      مزید پڑھیں: 


      بنچ نے کہا کہ گرفتاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے ایک تعزیری ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اسے غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ اس کے نتیجے میں فوجداری قانون سے پیدا ہونے والے سنگین ممکنہ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ افراد کو صرف الزامات کی بنیاد پر اور منصفانہ ٹرائل کے بغیر سزا نہیں دی جانی چاہئے۔ فوجداری قانون اور اس کے عمل کو ہراساں کرنے کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: