ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وبا کے پس منظر میں مذہبی سیاست پر تنقید، اہم دانشوروں نے اٹھائی آواز

مولانا یعسوب عباس کہتے ہیں کہ شرپسند اور فرقہ پرست لوگوں کے ذہن اس حد تک پراگندہ ہو گئے ہیں کہ لوگ وباؤں اور بلاؤں میں بھی مذہب تلاش کرکے ناپاک سیاست کررہے ہیں۔

  • Share this:
وبا کے پس منظر میں مذہبی سیاست پر تنقید، اہم دانشوروں نے اٹھائی آواز
مولانا یعسوب عباس کہتے ہیں کہ شرپسند اور فرقہ پرست لوگوں کے ذہن اس حد تک پراگندہ ہو گئے ہیں کہ لوگ وباؤں اور بلاؤں میں بھی مذہب تلاش کرکے ناپاک سیاست کررہے ہیں۔

لکھنئو۔ ملک ان دنوں ایک ایسی مہلک وبا کی زد میں ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ انسانی زندگی میں اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جب پورے ملک کے باشندوں کو اپنے سماجی شعور، قومی اتحاد اور سیاسی بصیرت کے استعمال سے کورونا سے جنگ جیتنے کی کوششیں کرنی چاہئے تھیں ایسے وقت میں ایک طبقہ اپنے مذہبی جنون کی تسکین اور منفی سیاسی مفاد کے حصول کے لئے کام کر رہا ہے۔ یہ ماننا ہے آل انڈیا گروپس آف مائنارٹیز  کے چئرمین سید بلال نورانی اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس کا۔۔


مولانا یعسوب عباس کہتے ہیں کہ شرپسند اور فرقہ پرست لوگوں کے ذہن اس حد تک پراگندہ ہو گئے ہیں کہ لوگ وباؤں اور بلاؤں میں بھی مذہب تلاش کرکے ناپاک سیاست کررہے ہیں۔ یہ نہ ملک کے حق میں ہے اور نہ ان لوگوں کے جو ناپاک منصوبوں کی تکمیل کے لئے ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ ایک ملی و سماجی رہنما کی حیثیت سے سماج میں ممتاز شناخت رکھنے والے سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ ملک عبرت ناک دور سے گزر رہا ہے اور اگر فرقہ پرست طاقتوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو رفتہ رفتہ سبھی کچھ نفرت کی آگ میں جل جائے گا۔جماعت کے لوگوں سے لے کر موذّنوں کے خلاف کی جانی والی کارروائیوں کے پس منظر میں کورونا کے خلاف جنگ لڑنے کی حکمتِ عملی سے زیادہ سیاست اور نفرت کی جنگ نظر آتی ہے جو اس جمہوری اور دستوری ملک کے لئے اچھا اشارہ نہیں۔ بلال نورانی یہ بھی کہتے ہیں کہ لاک ڈاون کے سرکاری اعلانات کے پیش نظر  یہ ملک کے ہر باشندے کا فرض ہے کہ وہ احکامات کی پابندی کرے اور یہی اسلامی شریعت کا تقاضا بھی ہے۔


بلال نورانی نے ملک کے عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں۔


بلال نورانی نے ملک کے عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں۔ کوئی ایسا کام نہ کریں جو ملک اور ملک کے عوام کے حق میں نہ ہو۔ اپنے حلیے سے زیادہ اپنے کردار و اطوار کو سنوارنے کی کوشش کریں۔حق وباطل کی جنگ میں جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ ہمارا ملک دنیا کے لئے قومی یکجہتی اور اتفاق واتحاد کی مثال رہا ہے، ہر چند کہ کچھ لوگ اس اتحاد کو بکھیرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اگر اقلیت کے لوگوں نے ذمہ داری اور بردباری کا ثبوت دیا تو منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل ہوجائے گا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Apr 27, 2020 06:33 PM IST