ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ضلع رامبن میں تعمیراتی کمپنیوں کے سی ایس آر فنڈس کا زمینی سطح پر کوئی استعمال نہیں، ذمہ دار اداروں کی خاموشی پر عوامی نمائندوں نے اٹھائے سوال

وادی کشمیر کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑنے والے بارہ ماہی سڑک رابطے قومی شاہراہ 44 کو چار گلیاروں والی سڑک تعمیر کرنے کا پروجیکٹ اس وقت سرکاری طور پر شد و مد سے جاری ہے۔

  • Share this:
ضلع رامبن میں تعمیراتی کمپنیوں کے سی ایس آر فنڈس کا زمینی سطح پر کوئی استعمال نہیں، ذمہ دار اداروں کی خاموشی پر عوامی نمائندوں نے اٹھائے سوال
ضلع رامبن اس وقت جموں و کشمیر کے تعمیراتی نقشے پر سرفہرست ہے۔ ا

ضلع رامبن اس وقت جموں و کشمیر کے تعمیراتی نقشے پر سرفہرست ہے۔ اس وقت ضلع کے اندر دو سب سے بڑے تعمیراتی پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں جس میں پہلا پروجیکٹ ناردرن ریلوے کی جانب سے کٹرہ قاضی گنڈ ریل لینک کو جوڑنے کیلئے جاری ہے۔ وہیں دوسری جانب وادی کشمیر کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑنے والے بارہ ماہی سڑک رابطے قومی شاہراہ 44 کو چار گلیاروں والی سڑک تعمیر کرنے کا پروجیکٹ اس وقت سرکاری طور پر شد و مد سے جاری ہے۔ تاہم ان پروجیکٹس کی تعمیر کیلئے مامور تعمیراتی کمپنیوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ضلع رامبن کے تمام تر پہاڑوں کو کاٹ کر درے بنائے جہاں سے ریل گاڑی سفر کرے گی وہیں قومی شاہراہ کی کشادگی کیلئے دن رات زمین کی کٹائی بھی کی گئی ہے۔ تعمیراتی کمپنیوں کی کافی تعداد یہاں سے ردو بدل کر کے واپس بھی گئی ہیں۔

وہیں کچھ کمپنیاں کنگالی کے دہانے پر پہنچ گئی اور کئی کمپنیاں ابھی تک کام کرنے سے ہاتھ کھڑے کر چکی ہیں۔ بنیادی مسئلہ سب کا ایک ہی رہا ضلع رامبن کی ٹوپوگرافی اور مشکل ترین پہاڑیاں جنہیں کئی دہائیوں سے بلاسٹ کر کر کے توڑا جارہا اور قومی شاہراہ پر بھاری مشینوں سے دن رات کٹائی کا عمل بھی جاری ہے۔ ان پروجیکٹس کی تکمیل کیلئے ہزاروں کنال اراضی کا حصول کیا گیا جس میں کئی جگہوں پر آبادی بستی تھی جنہیں محض معاوضہ دیکر بازآبادکاری کے تمام اصول و ضوابط کو بالائے طاق پر رکھ کر خالی کرایا گیا۔ وہیں جنگلات کی اراضی پر ہزاروں سر سبز پیڑوں کو بھی معاوضے کے بدلےکاٹا گیا۔



پروجیکٹس کی تعمیر میں کئی کئی بار ٹینڈرز ہوئے وقت کی اصل رقم سے زیادہ بڑھایا بھی گیا۔ جسکی تازہ مثال گزشتہ دنوں قومی شاہراہ کے دورے پر آئے قومی شاہراہفورلیننگ پروجیکٹ کے نوڈل افسر پون کوتوال کی جانب سے دئے گئے بیان کے مطابق قومی شاہراہ پر رامبن بانہال سیکٹر میں 16کلومیٹر کی تبدیل الائنمنٹ کیلئے 2ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے ایک پروجیکٹ متعارف کیا گیا ہے۔ تعمیر و ترقی کسی بھی علاقے کیلئے خوشحالی کا ضامن ہوتا ہے لیکن ضلع رامبن میں تصویر اسکے بر عکس ہے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے تعمیراتی دور میں ضلع کے ماحولیات کو بے انتہا نقصان پہنچایا جارہا جس میں ہوا،پانی اور مٹی تینوں قدرتی وسائل کے ساتھ بے دریغ استحصال ہورہا ہے۔ اور ماحولیات میں ہورہی تبدیلی کی اس وقت کئی بیماریوں کے پھیلنے کی وجہ بن رہا اور وہیں ہمارے مستقبل نسل کیلئے بہت بڑا چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔



ماحول کی حفاظت کیلئے مامور اداروں کی خاموشی ہر تو سوال اٹھتے ہیں لیکن چاروں طرف قدرتی وسائل جس میں بانہال سے لیکر کھڑی و رامسو سے ہوتے ہوئے رامبن سنگلدان چندرکوٹ بٹوت تک کئی چھوٹے ندی نالوں اور دریائے بچھلڑی و چناب کو پہنچ رہے نقصان ہو یا پھر سمبڑ کے بالائی علاقوں میں زمین کے اندر درے بنانے سے پانی کے قدرتی چشموں کا سوکھ جانے کے ساتھ ساتھ ہنگننی کے اوپر مکیں شگن کی عوام کی زندگی سے اچانک پانی جیسی بنیادی سہولت کا چھن جانا ہو انتظامیہ کی جانب سے تعمیراتی کمپنیوں کو جوابدہ بنانا اور حکومت کے ساتھ کئے معاہدے کی فرض شناسی کو روکنا اہم ذمہ داری تھی۔ لیکن بلاک ڈیولپمنٹ کونسل چیئرمین کھڑی مہو منگت کی جانب سے آج دوسری بار ارکان انٹرنیشنل لمیٹڈ قاضی گنڈ کٹرہ ریلوے رابطے کی تعمیر کی ذمہ دار کمپنی کو ان کے بنیادی کام کیلئے یاد دہانی کیلئے دوسری بار درخواست نہیں کرنی پڑتی۔

حکومت کے ساتھ تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے ہوئے معاہدے کے مطابق انہیں تعمیر کے دوران مقامی آبادی کے فلاح وبہبود کیلئے کل رقم کا ایک فیصد صرف کرنا ہے۔ لیکن ضلع رامبن میں تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے سی ایس آر رقم کا زمینی سطح پر استعمال نہ ہونے پر چیئرمین بلاک ڈیولپمنٹ کونسل رامسو شفیق احمد کٹوچ نے بھی سوال اٹھائے ہے انہوں نے عوام کا روزگار انکے مکان اور دکانیں اسکول اور دیگر اہم مذہبی ادارے اجڑنے کے بعد حکومت سےضلع رامبن کی عوام کیلئے بازآبادکاری پروجیکٹ متعارف کرنے کی گزارش کرتے ہوئے تعمیراتی کمپنیوں کو تنبیہ کیا ہے کہ وہ مقامی عوام کے فلاح کیلئے معاہدے کے مطابق رقم کا استعمال کرے اور اس میں عوامی نمائندوں کی رائے کو بھی شامل کیا جائے۔اب دیکھنا یہی ہے کہ انتظامیہ و حکومت ضلع رامبن میں ماحول کو پہنچ رہے نقصان کو روکنے میں کتنا کامیاب ہوسکتی وہیں تعمیراتی کمپنیوں کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے ضلع میں کام کر رہے سماجی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے انہیں بھی رامبن کی مجموعی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 14, 2020 07:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading