ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ْ' شاہین باغ کی دادی' TIME کی جاری کردہ فہرست میں دنیا کے سب سے بااثر لوگوں میں شامل

بلقیس ان ہزاروں احتجاج کاروں میں سے ایک تھیں جو دہلی کے جامعہ نگر واقع شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف مہینوں بیٹھی رہیں۔ ان کے بارے میں معروف خاتون صحافی رعنا ایوب نے لکھا ہے کہ ' بلقیس کو مشہور ہونا چاہئے تاکہ دنیا تاناشاہی کے خلاف جدوجہد کی طاقت کا احساس کرے'۔

  • Share this:
ْ' شاہین باغ کی دادی' TIME کی جاری کردہ فہرست میں دنیا کے سب سے بااثر لوگوں میں شامل
شاہین باغ کی ' دبنگ' دادیوں سے میں ایک بلقیس دنیا کی 100 سب سے زیادہ بااثر شخصیات میں شامل ہو گئی ہیں۔

نئی دہلی۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف دنیا بھر میں سب سے طویل اور پرامن احتجاج کی علامت بن چکے شاہین باغ کی ' دبنگ' دادیوں سے میں ایک بلقیس دنیا کی 100 سب سے زیادہ بااثر شخصیات میں شامل ہو گئی ہیں۔ ٹائم میگزین کی جاری کردہ تازہ فہرست میں انہیں 'آئیکن' زمرے میں جگہ دی گئی ہے۔ بلقیس ان ہزاروں احتجاج کاروں میں سے ایک تھیں جو دہلی کے جامعہ نگر واقع شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف مہینوں بیٹھی رہیں۔ ان کے بارے میں معروف خاتون صحافی رعنا ایوب نے لکھا ہے کہ ' بلقیس کو مشہور ہونا چاہئے تاکہ دنیا تاناشاہی کے خلاف جدوجہد کی طاقت کا احساس کرے'۔


اس فہرست میں وزیر اعظم مودی کا نام بھی شامل ہے۔ ٹائم میگزین کی فہرست میں اداکار آیوشمان کھرانہ، ہند نژاد امریکی رہنما کملا ہیرس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میگزین کی فہرست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، جو بائیڈن اور انجیلا مرکل جیسے بڑے بڑے رہنماوں کو شامل کیا گیا ہے۔


82 سال کی بلقیس بانو شاہین باغ کی دادی کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔ ٹائم میگزین کی طرف سے فہرست جاری ہونے کے بعد ٹوئٹر پر ' شاہین باغ' ٹرینڈ کرنے لگا۔ صارفین نے لکھا کہ اس عمر میں بلقیس کے جدوجہد کا جذبہ قابل ستائش ہے۔ کانگریس لیڈر سلمان نظامی نے بلقیس کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک تصویر ٹویٹ کی۔ دیپانشو نے لکھا کہ ' دادی جی راکنگ'۔ گنیش نے لکھا کہ ' ہمارے ملک کی دادی کسی سے کم ہیں کیا'۔








کورونا وائرس کے پیش نظر ختم ہوا تھا احتجاج

بتا دیں کہ شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینے کی مانگ کو لے کر 101 دنوں تک احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔ جب ہندستان میں کورونا کے معاملے بڑھنے لگے تو احتیاطا دہلی پولیس نے مظاہرہ گاہ کو خالی کروا دیا تھا۔ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے مارچ میں ' جنتا کرفیو' کا اعلان کیا تھا تب بلقیس نے کہا تھا ' اگر وزیر اعظم کو ہماری صحت کی اتنی ہی فکر ہے تو آج اس کالے قانون کو منسوخ کر دیں پھر ہم بھی اتوار کے دن جنتا کرفیو میں شامل ہو جائیں گے'۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 23, 2020 02:58 PM IST