உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دلت مسلم اتحاد، پسماندہ سماج اور اتر پردیش کا سیاسی محاذ

    دلت مسلم اتحاد کی اہمیت اور اس بڑے ووٹ بنک کی قیمت کا اندازہ سبھی کو ہے اور سبھی اہم سیاسی جماعتیں اس اتحاد کی دعویدار بھی ہیں لیکن یہ طوفان کس طرف کا رخ کرے گا یاس بارے میں ابھی یقین  سے کچھ بھی

    دلت مسلم اتحاد کی اہمیت اور اس بڑے ووٹ بنک کی قیمت کا اندازہ سبھی کو ہے اور سبھی اہم سیاسی جماعتیں اس اتحاد کی دعویدار بھی ہیں لیکن یہ طوفان کس طرف کا رخ کرے گا یاس بارے میں ابھی یقین  سے کچھ بھی

    دلت مسلم اتحاد کی اہمیت اور اس بڑے ووٹ بنک کی قیمت کا اندازہ سبھی کو ہے اور سبھی اہم سیاسی جماعتیں اس اتحاد کی دعویدار بھی ہیں لیکن یہ طوفان کس طرف کا رخ کرے گا یاس بارے میں ابھی یقین  سے کچھ بھی

    • Share this:
    اتر پردیش کے تناظر و پس منظر میں کسی بھی اسمبلی الیکشن کی سیاست کے مسائل و موضوعات کچھ بھی ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں مسلم اور دلت ایک ایسا فیکٹر اور ووٹ بنک ہے جس کے تعاون کے بغیر کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے اقتدار کا حصول نا ممکن حد تک دشوار ہے۔ اسی لئے چھوٹی بڑی سبھی سیاسی جماعتوں کی نظر اس مخصوص ووٹ بنک پر رہتی ہے اور الیکشن کے دوران ہمیشہ سے استعمال کیے جانے والے ان لوگوں کو مسائل اور مصیبتوں کی فکر بھی ہر سیاسی جماعت کو ستانے لگتی ہے ۔ ایک بار پھر اس سلسلے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور بہت سی چھوٹی چھوٹی سیاسی تنظیمیں اس ووٹ بنک کی بنیاد پر جیبیں گرم کرنے کے لیے ایک بار پھر اپنے بلوں سے باہر آنے لگی ہیں۔ اس حوالے سے اترُپردیش کی اہم جماعتوں میں بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی کا ماضی قابل ذکر ہے دلت پسماندہ اور پچھڑوں کو اپنا مضبوط ووٹ بنک تصور کرنے والی بی ایس پی اس بار بظاہر کمزور نظر آتی ہے لیکن زمینی سطح پر کام کرنے والے بی ایس پی لیڈراورشاراکین اپنی پارٹی سربراہ مایاوتی کی سیاسی حکمت عملی اور خاموشی سے چلائے جارہے مشن کو آئندہ الیکشن میں فتح کے مشن سے تعبیر کررہے ہیں۔

    معروف لیڈر صلاح الدین کہتے ہیں کہ موجودہ اقتدار سے پریشان دلت مسلم پچھڑے اور عام انسان سبھی اپنی رہنما بہن مایاوتی کی جانب بڑے یقین سے دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے پارٹی اراکین اور کارندے زمینی سطح پر کام کررہے ہیں اس سے منظر نامہ پوری طرح صاف نظر آتا ہے صلاح الدین مسّن کہتے ہیں کہ اتر پردیش میں کانگریس اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی سے دلت مسلم سبھی ناراض ہیں صلاح الدین کے مطابق عام رائے یہ ہے کہ جو سیاسی جماعت اپنے اہم لیڈر اور پارٹی کے ستون محمد اعظم خاں کا تحفظ نہیں کر سکی وہ عام انسان اور مظلوم مسلمانوں کے لئے کیا کر پائے گی۔۔۔اتر پردیش کے بیشتر اضلاع بالخصوص مغربی اتر پردیش میں دلت اور مسلم اتحاد ماضی میں تاریخ رقم کرکے بہن جی کو اقتدار تک پہنچا چکا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم ووٹ بنک نے سماج وادی پارٹی کو بھی اپنے غیر معمولی تعاون سے اتر پردیش پر حکومت کرنے میں بنیادی رول ادا کیا ہے ۔
    بی ایس پی میں اہم مسلم چہرے کی شناخت رکھنے والے صلاح الدین تو یہی کہتے ہیں کہ یہ اتحاد اس بار بہن جی کو اتر پردیش کی گدی سونپنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ صلاح الدین مسّن کے یہ دعوے کس حد تک صحیح ہیں یہ وقت طے کرے گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بی ایس پی کے اس سپاہی نے گزشتہ تین سال کے دوران جس انداز سے لوگوں کو جوڑے رکھنے کے لئے زمین پر کام کیا ہے وہ قابل غور ضرور ہے ۔ اگر واقعی بی ایس پی کے سبھی علاقوں اور اسمبلی حلقوں کے لوگ اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو ان کے دعووں پر یقین کیا جاسکتا ہے لیکن سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق مبظر نامہ اتنا خوش کن نہیں ہے جتنا بی ایس پی کو نظر آرہا ہے ۔دلت مسلم اتحاد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ اتحاد کس طرف کا رخ کرے گا ابھی دیکھنا باقی ہے۔۔کیونکہ گزشتہ الیکشن میں دلت سماج کی بڑی تعداد نے بی جے پی جو اقتدار تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: