ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: دلت-مسلم اتحاد اور بدلتا سیاسی محاذ

بلال نورانی اور چندر شیکھر کی نوئیڈا اور دہرہ دون میں ایک ماہ کے دوران ہوئی دو ملاقاتوں نے صرف بہوجن سماج پارٹی ہی نہیں بلکہ سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

  • Share this:
اترپردیش: دلت-مسلم اتحاد اور بدلتا سیاسی محاذ
بلال نورانی اور چندر شیکھر کی نوئیڈا اور دہرہ دون میں ایک ماہ کے دوران ہوئی دو ملاقاتوں نے صرف بہوجن سماج پارٹی ہی نہیں بلکہ سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

لکھنئو۔ دلت، پسماندہ  اور کمزور لوگوں کی آواز بن کر ابھرنے والے  لیڈر بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر راون اور پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے صدر ومعروف سیاسی و سماجی لیڈر سید بلال نورانی کی حالیہ ملاقات نے یہ اشارے دے دئے ہیں کہ اتر پردیش کا سیاسی منظر نامہ کیا رخ اختیار کر رہا ہے۔ حالانکہ بلال نورانی اور چندر شیکھر کی ملاقات کے اغراض و مقاصد کو واضح نہ کرتے ہوئے اسے خیر سگالی ملاقات سے تعبیر کیا گیا لیکن پریشر گروپ آف مائنارٹیز  کے صدر سید بلال نورانی کے سابقہ بیانات کی روشنی میں حالیہ ملاقات یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اتر پردیش میں دلت۔ مسلم سماج کے جس اتحاد کے لئے آوازیں بلند کی جاتی رہی ہیں اس کے لئے فضا ہموار کی جارہی ہے۔


بلال نورانی نے گزشتہ دنوں صاف طور پر کہا تھا کہ جب تک مظلوم اور معتوب لوگ ہم آواز ہو کر موجودہ نظام کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تب تک اتر پردیش میں تبدیلی کے خواب دیکھنا بے معنی اور غیر یقینی ہے۔ بلال نورانی اور چندر شیکھر کی نوئیڈا اور دہرہ دون میں ایک ماہ کے دوران ہوئی دو ملاقاتوں نے صرف بہوجن سماج پارٹی ہی نہیں بلکہ سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ بلال نورانی کہتے ہیں کہ دلت نوجوانوں کے ہیرو تصور کئے جانے والے چندر شیکھر راون کی جانب اب دوسرے طبقوں کے لوگ بھی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ فی الوقت اتر پردیش کی سیاست میں کوئی انقلاب بھلے ہی برپا نہ کرسکیں لیکن سیاسی رخ تبدیل ضرور کر سکتے ہیں اور اگر انُ کی سیاسی فکر سے کچھ اہم گروپس اور تنظیمیں متفق ہو گئیں تو بڑی تبدیلی کے خواب بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت اظہار کرنے کے مترادف ہے۔


بی جے پی کے قمر حسین اور بہوجن سماج پارٹی کے مولانا شباہت کہتے ہیں کہ چندر شیکھر بہوجن سماج پارٹی  اور بی جے پی کے دیرینہ ووٹ بنک کو متزلزل نہیں کر پائیں گے لیکن بلال نورانی کے مطابق وہ دلت ووٹ جو پریشانی کی حالت میں نیلے رنگ کی جگہ بھگوا رنگ دھارن کرسکتا ہے وہ چندر شیکھر راون کی آواز پر اپنے جمہوری و دستوری حقوق کی بازیابی کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے۔


یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بلال نورانی کی جانب سے ابھی مستقبل کی حکمت عملی اور لائحہ عمل سے متعلق کوئی مستحکم بیان جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن اتر پردیش میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے لہٰذا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ خبر تو یہ بھی گردش کر رہی تھی کہ گزشتہ دنوں کانگریس کے ایک اہم لیڈر نے بلال نورانی سے ملاقات کی تھی۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ اتر پردیش کے سیاسی ماحول پر بہار کے انتخابات کا بھی بڑا اثر پڑے گا۔ اتنا ضرور ہے کہ چندر شیکھر اور اویسی دو ایسے نام ہیں جو بڑے پیمانے پر کامیابیاں بھلے ہی حاصل نہ کر سکیں لیکن الیکشن کا موڈ اور رخ تو تبدیل کر ہی سکتے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 25, 2020 12:45 PM IST