உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فتویٰ: شیعہ کی افطار پارٹی اور شادی کی دعوت میں کھانا کھانے سے پرہیز کریں سنی مسلمان

    دارالعلوم دیوبند: فائل فوٹو۔

    دارالعلوم دیوبند: فائل فوٹو۔

    فتووں کی نگری سہارنپور واقع اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند سے جاری فتوے میں سنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شیعہ مسلک کے ماننے والوں کے یہاں افطار پارٹی یا شادی کی دعوت میں جانے سے گریز کریں۔

    • Share this:
      دیوبند۔ فتووں کی نگری سہارنپور واقع اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند سے ایک اور فتوی جاری کیا گیا ہے۔ اس بار فتوے میں سنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شیعہ مسلک کے ماننے والوں کے یہاں افطار پارٹی یا شادی کی دعوت میں جانے سے گریز کریں۔

      دارالعلوم سے جاری ہوئے اس فتوے پر مفتیوں نے شریعت کا حوالہ دیتے ہوئے صاف کہا کہ سنی مسلمانوں کو ان کے یہاں جانے سے گریز کرنا چاہئے۔ تین مفتیوں نے یہ فتوی جاری کیا ہے۔

      دراصل، محلہ بڑضیا الحق کے رہائشی سکندر علی نے دارالعلوم میں واقع فتوی محکمہ کے مفتی حضرات سے تحریری طور پر سوال کیا تھا کہ شیعہ حضرات رمضان المبارک میں روزہ افطار کی دعوت کرتے ہیں، کیا سنی مسلمان کا اس میں شریک ہونا جائز ہے؟ جبکہ دوسرے سوال میں پوچھا ہے کہ شیعہ حضرات کے یہاں شادی وغیرہ کے موقع پر جانا اور وہاں کھانا کیسا ہے؟



      اس سوال کے جواب میں دارالعلوم کے مفتیوں کی تین رکنی بینچ نے کہا ہے کہ دعوت خواہ افطار کی ہو یا شادی کی، شیعہ حضرات کی دعوت میں سنی مسلمانوں کو کھانے پینے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

      بتا دیں کہ پہلے سے ہی شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اسلامی مسائل کو لے کر تنازع چلا آ رہا ہے۔ ایسے میں شیعہ مسلمانوں کے یہاں دعوت میں جانے کو لے کر پوچھے گئے سوال اور اس پر دارالعلوم کے مفتیوں کی طرف سے دئیے گئے جواب سے ایک نئی بحث بھی چھڑ سکتی ہے۔

       
      First published: