ہوم » نیوز » No Category

بی ایس پی کے رہنما نریندر کشیپ پر جہیز کیلئے قتل کا مقدمہ درج، بہو کی ہوئی تھی موت

نئی دہلی : بہوجن سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ نریندر کشیپ پر جہیز کیلئے قتل کا مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ ان کی بیوی دیویندري، بیٹا ساگر اور سدھارتھ بھی نامزد ہیں۔ ان پر آئی پی سی کی دفعہ 304 بی اور 398 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کشیپ کی بہو همانشي کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ دیر رات لواحقین لاش کو بدایوں لے کر روانہ ہوں گے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Apr 07, 2016 12:34 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی ایس پی کے رہنما نریندر کشیپ پر جہیز کیلئے قتل کا مقدمہ درج، بہو کی ہوئی تھی موت
نئی دہلی : بہوجن سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ نریندر کشیپ پر جہیز کیلئے قتل کا مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ ان کی بیوی دیویندري، بیٹا ساگر اور سدھارتھ بھی نامزد ہیں۔ ان پر آئی پی سی کی دفعہ 304 بی اور 398 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کشیپ کی بہو همانشي کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ دیر رات لواحقین لاش کو بدایوں لے کر روانہ ہوں گے۔

نئی دہلی : بہوجن سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ نریندر کشیپ پر جہیز کیلئے قتل کا مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ ان کی بیوی دیویندري، بیٹا ساگر اور سدھارتھ بھی نامزد ہیں۔ ان پر آئی پی سی کی دفعہ 304 بی اور 398 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کشیپ کی بہو همانشي کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ دیر رات لواحقین لاش کو بدایوں لے کر روانہ ہوں گے۔

بہوجن سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ نریندر کشیپ کے گھر کے باتھ روم میں بدھ کی دوپہر ان کی بہو همانشي کی خون آلود لاش برآمد ہوئی تھی۔ کشیپ کے اہل کانہ کا کہنا ہے کہ دوپہر تقریبا 11 بجے ان کی بہو همانشي پہلی منزل کے باتھ روم میں گئی۔ كافی دیر تک جب وہ نہیں آئی اور باتھ روم میں کوئی ہلچل نہیں سنائی دی ، تو کنبہ کا ایک ممبر تقریبا ساڑھے گیارہ بجے بالائی منزل پر گیا ۔ کمرہ اندر سے بند تھا اور کافی دیر تک دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی جب وہ نہیں کھلا تو دروازہ توڑ وہ اندر داخل ہوا۔ وہاں بہو کی خون آلود لاش زمین پر پڑی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔ کنبہ کا دعوی ہے کہ بہو نے خودکشی کی ہے۔

غور طلب ہے کہ نریندر کشیپ کے بیٹے ساگر کشیپ سے تقریبا تین سال پہلے همانشي کی شادی ہوئی تھی۔ همانشي کے والد ہیرا لال کشیپ بھی اترپردیش حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ ساگر پیشے سے ڈاکٹر ہے اور فی الحال ایم ڈی کر رہا ہے۔ واقعہ کے وقت ساگر میرٹھ یونیورسٹی گیا ہوا تھا، جبکہ کشیپ ، ان کی بیوی اور چھوٹی بیٹی گھر پر ہی موجود تھے ۔ خیرت انگیز والی بات یہ ہے کہ بہو کی کنپٹی میں گولی لگی اور گھر میں گولی چلنے کی آواز کسی نے نہیں سنی۔ همانشي کے والد کا الزام ہے کہ ممبران پارلیمنٹ اور ان کا کنبہ شادی کے بعد سے ہی همانشي کو جہیز کے لئے پریشان کر رہا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ سسرال کے لوگ جہیز کے لئے اکثر همانشي کی پٹائی بھی کرتے تھے۔همانشي نے کئی مرتبہ اپنے مائیکے میں یہ باتیں بتائی تھی ۔

First published: Apr 07, 2016 12:34 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading