உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محمد سلیم پر بھڑکے راج ناتھ سنگھ، لوک سبھا کی کارروائی دو بار ملتوی

    نئی دہلی۔ حکومت کے لئے پارلیمنٹ میں مشکل بھرا دور شروع ہو گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ حکومت کے لئے پارلیمنٹ میں مشکل بھرا دور شروع ہو گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ حکومت کے لئے پارلیمنٹ میں مشکل بھرا دور شروع ہو گیا ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ حکومت کے لئے پارلیمنٹ میں مشکل بھرا دور شروع ہو گیا ہے۔ آج دونوں ایوانوں میں اپوزیشن جماعتوں نے عدم برداشت پر بحث کے لئے نوٹس دیا جس پر دوپہر 12 بجے کے بعد بحث شروع ہو گئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت کو ضابطہ 193 کے تحت اس مسئلے پر بحث کرانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔


      بحث کرائے جانے سے پہلے اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ میں تمام فریقوں سے کہتی ہوں کہ جب کوئی عدم برداشت کو لے کر کچھ کہہ رہا ہو تو وہ خود بھی عدم برداشت دکھائے اور سنے۔ وہیں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ میں اس رکن کو کہوں گا کہ اگر ان کے نقطہ نظر سے عدم برداشت بڑھ رہی ہے تو وہ اس کے لئے تجاویز بھی دیں۔


      اس کے بعد محمد سلیم نے عدم برداشت کے معاملے پر بحث شروع کی۔ سی پی ایم کے رہنما محمد سلیم نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ عدم برداشت بڑھ رہی ہے لہذا یہ الفاظ کم ہیں۔ وزیر موصوف کہہ رہے ہیں کہ یہ مصنوعی اختلاف ہے۔ یہ کہہ کر آپ کس کی توہین کر رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔ دادری کا واقعہ ہوا، كلبرگی، دابھولكر کا قتل ہوا۔ جب دلت یا مسلمان کی بات ہوتی ہے تو کتے کا پلا کہہ دیا جاتا ہے۔ ہمیں ایسے وزیر کو بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔


      بحث کے دوران محمد سلیم نے کہا کہ خود راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ 800 سال کی غلامی کے بعد ہندو حکومت واپس آئی ہے۔ لیکن اس پر راج ناتھ نے سخت اعتراض کیا۔ راج ناتھ نے سیٹ سے اٹھ کر کہا کہ محمد سلیم کا الزام بہت سنگین ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ میں نے کب ایسا بیان دیا نہیں تو انہیں معافی مانگنی ہوگی۔ اس کے بعد حکمراں پارٹی کی جانب سے شور و غل شروع ہو گیا۔


      محمد سلیم نے آؤٹ لک میگزین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو میگزین کے رپورٹر کے خلاف کیس کیا جائے۔ میں تو صرف اسے بتا رہا ہوں۔ محمد سلیم نے کہا کہ آر ایس ایس کی میٹنگ میں وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ پرتھوی راج چوہان کے بعد 800 سال بعد کوئی ہندو حکمراں آیا ہے۔ راجیو پرتاپ روڑی نے کہا کہ اس بیان کو واپس لیا جائے تاکہ ایوان کی کارروائی آسانی سے چلے۔ ابھی اس تبصرہ کو واپس لیا جائے جب تک کہ اس بیان کی سچائی کی تصدیق نہ ہو جائے۔ ایسا نہ ہونے پر ہمارے لئے ایوان میں بیٹھے رہنا مشکل ہوگا۔


      اس کے بعد راج ناتھ پھر سیٹ سے اٹھے اور کہا کہ میں محمد سلیم کے بیان سے بہت دکھی ہوں۔ میں ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولتا ہوں۔ اگر ملک کا وزیر داخلہ اس طرح کا کوئی بیان دیتا ہے تو اسے عہدے پر بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس کے بعد ایوان میں ہنگامہ جاری رہا اور آخر کار اسپیکر نے محمد سلیم کے راج ناتھ سنگھ پر دیے گئے بیان کو ایوان کی کارروائی سے ہٹا دیا۔ اسپیکر نے اس کے بعد ایوان 2.05 بجے تک ملتوی کر دیا۔


      دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر ایوان کا وہی نظارہ تھا۔ محمد سلیم اپنی بات پر مصر رہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی بات پر قائم ہوں اور حکمراں جماعت کا یہ کہنا کہ بیان واپس نہیں لینے پر ایوان نہیں چلنے دیا جائے گا، یہ بھی ایک قسم کی عدم برداشت ہے۔ اس پر ماحول کشیدہ دیکھ کراسپیکر نے ڈھائی بجے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی۔


      کانگریس۔ سی پی ایم نے دیا نوٹس


      کانگریس اور جے ڈی یو نے راجیہ سبھا میں ضابطہ 267 کے تحت اس پر بحث کے لئے نوٹس دیا جبکہ لوک سبھا میں کانگریس اور سی پی ایم نے ضابطہ 193 کے تحت بحث کرانے کا نوٹس دیا۔ ضابطہ 193 کے تحت ووٹنگ کا اصول نہیں ہوتا۔ جے ڈی یو ان پانچ وزراء کو برطرف کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جن پر متنازعہ بیان دینے کا الزام ہے۔ جے ڈی یو نے مذمتی تجویز بھی پاس کرنے کی مانگ کی ہے۔ حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اس پر بیان دیں گے۔


      وہیں سماج وادی پارٹی کے رہنما رام گوپال یادو نے کہا ہے کہ عدم برداشت کے معاملے پر جتنی بحث ہو رہی ہے، اتنا ہی نقصان ہو رہا ہے۔ اس معاملے پر زیادہ بڑھا چڑھا کر بحث نہ ہو۔ ہندستان سے زیادہ عدم برداشت پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے۔

      First published: