உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل نو میں تاخیر کورونا کے باعث ہوئی: مختار عباس نقوی

     دراصل دانش علی مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل میں ہو رہی تاخیر کو لے کر پوچھے گئے سوال کے جواب سے مطمئن نہیں تھے۔

    دراصل دانش علی مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل میں ہو رہی تاخیر کو لے کر پوچھے گئے سوال کے جواب سے مطمئن نہیں تھے۔

    تکرار کے دوران مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے جواب دیتے ہوئے دانش علی کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ دو سالوں سے کورونا وبا کے باعث بہت ساری چیزیں نہیں ہو سکیں  لیکن مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل نو کا عمل چل ہی رہا تھا کہ اس دوران سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔

    • Share this:
    مرکزی حج کمیٹی ٹی کی تشکیل کو لے کر اتر پردیش سے ممبر آف پارلیمنٹ کنور دانش علی اور مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے درمیان وقفہ سوالات کے دوران تکرار اور نوک جھونک دیکھی گئی۔ دراصل دانش علی مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل میں ہو رہی تاخیر کو لے کر پوچھے گئے سوال کے جواب سے مطمئن نہیں تھے۔ تفصیلات کے مطابق آج لوک سبھا میں ممبر پارلیمنٹ امروہہ، کنور دانش علی نے مرکزی حج کمیٹی، اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی سے متعلق کچھ سوالات پوچھے، جن کا انہیں حکومت کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت دیگر اقلیتی اداروں جیسے سنٹرل وقف کونسل کی طرح سنٹرل حج کمیٹی کی تنظیم نو کو زیر التواء میں ڈال رکھا ہے۔ سینٹرل وقف کونسل جس میں دو لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کو بطور ممبر رکھا جانا چاہیے لیکن پچھلے ڈھائی سال سے اس سلسلے میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔دانش علی نے اپنے سوال اور تکرار کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا کہ حج کمیٹی کی تشکیل نو نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے کافی پریشانی کا سامنا ہے۔

    اگرچہ پچھلے دو سالوں میں حج سفر نہیں ہوا ہے، وہاں 21 سفری مقامات ہیں جہاں سے پروازیں حج کے لیے جاتی تھیں، بشمول وارانسی، چنئی وغیرہ۔ وہاں سے آنے والے زائرین کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔کیوں کہ ان مقامات کی تعداد گھٹا کر محض دس کر دی گئی ہے۔وہیں اس پوری تکرار کے دوران مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے جواب دیتے ہوئے دانش علی کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گزشتہ دو سالوں سے کورونا قدرتی دبا کے باعث بہت ساری چیزیں نہیں ہو سکی لیکن مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل نو کا عمل چل ہی رہا تھا کہ اس دوران سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ مختار عباس نقوی نے کہا تمام حج کو لے کر انتظامات کیے جاتے رہے ہیں ہیں کئی طرح کی اصلاحات بھی کی گئی ہیں جن میں خاص طور سے خواتین کو بغیر محرم کے حج پر بھیجنے کی بات بھی ہے اس کے علاوہ حج پر سبسڈی ختم کرنے کے بعد کئی مقامات پر عازمین حج کے لیے فلائٹ کا کرایہ نہیں بڑھایا گیا۔
    حاجیوں کو دی جانے والی سبسڈی کے معاملے پر دانش علی نے کہا کہ اس سے حاجیوں کو نہیں بلکہ ایئر انڈیا کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ اس لیے مسلم سماج کا مطالبہ تھا کہ حکومت اس سبسڈی کو ختم کرے تاکہ ان پر احسان کا دعویٰ ختم ہو۔لیکن ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم صادر کیا تھا جو فنڈ حج سبسڈی کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے اس کو مسلم بچیوں کی تعلیم پر خرچ کیا جائے ۔
    حکومت نے بعد میں دعویٰ کیا کہ وہ غریب مسلم لڑکیوں کو سبسڈی کی رقم سے اسکالر شپ دے کر ان کی زندگیاں بہتر بنا رہی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح ملک سے حقائق چھپا رہی ہے اور یہ بتانے کو تیار نہیں ہے کہ غریب مسلم لڑکیوں کے پاس اب تک کتنی رقم ہے۔ اسکالرشپ کے طور پر دیا؟

    دانش نے کہا کہ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پرایاس" جیسے نعرے دینے والی حکومت ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ بہرحال اس  مرحلے میں دانش علی کا ماننا ہے کہ ان کو مطمئن کرنے والا جواب نہیں ملا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے اس سلسلے میں واضح کیا ہے  کہ مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل نو کا عمل کیا جا رہا ہے  لیکن اس سلسلے میں تاخیر کورونا کے باعث ہوئی ہے۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: