உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر کے اپوزیشن لیڈروں کی صدر جمہوریہ سے ملاقات ، عمر عبداللہ نے کہا : محبوبہ ناکام ، مگر تبدیلی حکومت نہیں چاہتے

     نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم یہاں پارٹی لائن سے ہٹ کر کشمیر کو لے کر اپنی تشویش ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم نے صدرجمہوریہ سے کہا ہے کہ آج کشمیر کی جو صورت حال ہے ، وہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم یہاں پارٹی لائن سے ہٹ کر کشمیر کو لے کر اپنی تشویش ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم نے صدرجمہوریہ سے کہا ہے کہ آج کشمیر کی جو صورت حال ہے ، وہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم یہاں پارٹی لائن سے ہٹ کر کشمیر کو لے کر اپنی تشویش ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم نے صدرجمہوریہ سے کہا ہے کہ آج کشمیر کی جو صورت حال ہے ، وہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : کشمیر کے تمام اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں نے آج دہلی میں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کی۔ اپوزیشن لیڈروں کی صدر جمہوریہ کے ساتھ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے بعد نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم یہاں پارٹی لائن سے ہٹ کر کشمیر کو لے کر اپنی تشویش ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم نے صدرجمہوریہ سے کہا ہے کہ آج کشمیر کی جو صورت حال ہے ، وہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ہے۔ فورس کا استعمال کرنے سے نہیں بلکہ اس کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔ امید ہے کہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
      عمر عبداللہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 'میں یہاں خارجہ پالیسی پر تبادلہ خیال کرنے نہیں آیا ہوں، پہلے میرے گھر میں جو آگ لگی ہے وہ بجھے ۔ یہ صورتحال پر اب جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بھی پہنچ رہی ہے۔ اگر اسے جلد ہی نہیں صحیح کیا گیا ، تو کافی پریشانی ہوگی۔ ہم نے صدر جمہوریہ سے گورنر راج کی بات نہیں کی ہے۔ ہم یہاں حکومت تبدیل کرانے کیلئے نہیں آئے ہیں۔ باوجود اس کے کہ محبوبہ مفتی مکمل طور ناکام ہو چکی ہیں۔
      پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق سوال پر این سی لیڈر نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر میں حالات خراب کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے ، لیکن برہان وانی کی موت کے بعد جو حالات خراب ہوئے ہیں، وہ ہماری ناکامی ہے۔ ہاں پاکستان نے آگ میں پٹرول ڈالنے کا کام کیا۔ لیکن ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ افسوس مجھے اس بات ہے کہ جو بات ہم سیاسی قیادت سے سننا چاہتے ہیں ، وہ آج ہمیں فوج سے سننے کو مل رہی ہے۔
      First published: