உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مشاورت کےاعلیٰ وفد نے کشی نگر کا کیا دورہ ،مسلمانوں پر ہوئے مظالم کو بتایا افسوسناک

     دہلی، لکھنئو۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک اعلیٰ وفد نے کشی نگر کا دورہ کیا ۔

    دہلی، لکھنئو۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک اعلیٰ وفد نے کشی نگر کا دورہ کیا ۔

    دہلی، لکھنئو۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک اعلیٰ وفد نے کشی نگر کا دورہ کیا ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

       دہلی، لکھنئو۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک اعلیٰ وفد نے کشی نگر کا دورہ کیا ۔  صدرمشاورت ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی زیر قیادت اس وفد میں مشاورت کے جنرل سکریٹری اور یوپی مشاورت کے صدر پروفیسر محمد سلیمان ، یوپی مشاورت کے جنرل سکریٹری محمد خالد کے علاوہ یوپی مشاورت کے ارکان میں سے مولانا شہاب الدین سلفی، جناب ارشد اعظمی اور حافظ محمد یوسف (کانپور)شامل  رہے ۔


      دورے کے بعد  ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بتایا  کہ  کشی نگر اور قرب وجوار سے ملنے والی شکایتوں کی روشنی میں جب متعلقہ علاقے کادورہ کیا تومسلم طبقے پر ہونے والے مظالم کے ایسے حقائق کا انکشاف ہوا جو افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ شرمناک بھی ہیں۔ مشاورت نے اس ضمن میں حکومت کی مذمت کی ہے ساتھ ہی حالات سے آگاہ کرنے کے لئےوزیر اعلیٰ سے ملنے کا وقت مانگاہے۔ امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی ایک پانچ رکنی وفد وزیر اعلیٰ سے مل کرانصاف کا مطالبہ کریگا۔


        انہوں نے بتایا  کہ کشی نگر سے کافی عرصہ سے خبریں آرہی  تھیں  کہ وہاں  کچھ ہند وشدت  پسند تنظیمیں  اس علاقہ میں مسلمانوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو مسلسل اغوا کرکے ہندو بنایا جارہا ہے اور ان کی شادی  ہندو لڑکوں سے کرائی جا رہی ہے۔ لڑکیوں کو اغوا کرنے، ان کے ساتھ زنا بالجبر ،  مرضی کے خلاف شادی  اورفروخت کئے جانے  کے کئی معاملے  مشاورت کے ذمہ دار لوگوں کے سامنے  آئےہیں ۔ نیز فسادات کرکے مسلمانوں کی معاشیات تباہ کی جارہی ہیں اور ان کو اپنے علاقوں سے بھاگنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔


      ان حالات کا مشاورت کی مرکزی مجلس نے اپنی پچھلی میٹنگ منعقدہ 5دسمبر میں سخت نوٹس لیا تھا اور ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن کشی نگر بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 30 ۔31دسمبر کے دوران کشی نگر میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد لکھنؤ میں پریس کانفرنس منعقد کر اپنے دورے کے نتائج کو ملت اور ملک کے سامنے رکھا  ہے۔

      First published: