உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی پولیس کمشنر راکیش آستھانا کی تقرری کےخلاف دہلی اسمبلی میں قرارداد پاس ، سیاست تیز

    دہلی پولس کمشنر راکیش آستھانا کی تقرری کےخلاف دہلی اسمبلی میں قرارداد پاس ، سیاست تیز

    دہلی کی برسراقتدار عام آدمی پارٹی کی حکومت نے جمعرات کے روز راکیش استھانہ کو دہلی پولیس کا کمشنر مقرر کرنے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس کے رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ اسمبلی میں اس تقرری کے خلاف ایک قرار داد منظور کی گئی ، جو وزارت داخلہ کو بھیجی جائے گی ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : دہلی میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان رسہ کشی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ دونوں پارٹیاں نیا تنازعہ تلاش کرہی لیتی ہیں ۔ تازہ ترین معاملہ دہلی پولیس کمشنر راکیش آستھانا کی تقرری کو لے کر سامنے آیا ہے کہ ایک جانب عام آدمی پارٹی نئے کمشنر بنائے گئے راکیش آستھانا کی تقرری کی مخالفت کررہی ہے تو وہیں بی جے پی دہلی کے صدر آدیش گپتا نے راکیش آستھانا کی تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے پریس ریلیز تک جاری کردیا ۔

    دراصل یہ تنازعہ آج اس وقت مزید طول پکڑ گیا ، جب دہلی اسمبلی میں راکیش آستھانہ کی پولیس کمشنر کے طورپر تقرری کے خلاف قرار داد دہلی اسمبلی منظور کی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق دہلی کی برسراقتدار عام آدمی پارٹی کی حکومت نے جمعرات کے روز راکیش استھانہ کو دہلی پولیس کا کمشنر مقرر کرنے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس کے رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ اسمبلی میں اس تقرری کے خلاف ایک قرار داد منظور کی گئی ، جو وزارت داخلہ کو بھیجی جائے گی ۔

    ایوان میں اس مسئلے پر بحث کے دوران دہلی حکومت کے وزیر صحت صحت ستیندر جین نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین یہ کہہ رہے ہیں کہ آستھانا نے کسی پارٹی کے داماد کے خلاف کارروائی کی ، لیکن سب جانتے ہیں کہ کس نے اور کتنی کارروائی کی ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس کی ملی بھگت ہے ۔ جس دن داماد جیل جائے گا ، اس سے پہلے بی جے پی حکومت جائے گی ۔

    ادھر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ راکیش استھانہ کی تقرری سپریم کورٹ کے حکم کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ کا منظور کردہ حکم اس کے خلاف ہے۔ مرکزی حکومت کا فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرے اور تقررییں سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق کی جائیں۔

    وہیں عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ یہ تقرری نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی توہین بھی ہے۔ 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی کو ڈی جی پی کی سطح پر مقرر کرنا ہے تو ، اس کی ریٹائرمنٹ میں کم از کم 6 ماہ کا وقت ہونا چاہئے۔ اس عمل میں بھی یو پی ایس سی سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ پورے پروسیجر پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ۔

    دوسری جانب دہلی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا نے دہلی پولیس کمشنر کے عہدے پر راکیش آستھاناکی تقرری کا خیرمقدم کیا ہے ۔ دہلی قانون ساز اسمبلی کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے راکیش آستھانا کی تقرری کے خلاف اروند کیجریوال حکومت کی منظور کردہ قرار داد کی مذمت کرتے ہوئے دہلی بی جے پی صدر نے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی دہلی میں مرکز کی تقرریوں کی مخالفت کررہی ہے ۔ سیاسی بدنیتی اورآستھانا کی تقرری کی مخالفت بھی اسی سلسلہ کا ایک حصہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آستھانا کو شہری پولیسنگ اور جرائم کے سنگین معاملوں کی تحقیقات دونوں میں ٹھوس تجربہ ہے اور یہ مناسب ہے اور اچھا ہوتا کہ دہلی حکومت عوامی مفاد میں ان کی تقرری کا خیر مقدم کرتی ۔ آدیش گپتا نے کہا ہے کہ بہتر ہوگا کہ مرکز کے حکم پر سیاست کرنے کی بجائے کیجریوال حکومت کو اپنے کام کرنا چاہئے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: