ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی الیکشن نتائج: کیجریوال نے کانگریس کی 2019 والی غلطیوں سے لیا سبق، وزیر اعظم مودی کو لے کر بی جے پی کی حکمت عملی سے بھی اٹھایا فائدہ

عآپ کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اسمبلی الیکشن کے لئے انتخابی تشہیر کا آغاز بی جے پی کی طرف یہ سوال داغتے ہوئے کیا تھا کہ ’ کیا آپ کی پارٹی میں وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہے‘؟

  • Share this:
دہلی الیکشن نتائج: کیجریوال نے کانگریس کی 2019 والی غلطیوں سے لیا سبق، وزیر اعظم مودی کو لے کر بی جے پی کی حکمت عملی سے بھی اٹھایا فائدہ
دہلی الیکشن نتائج: کیجریوال نے کانگریس کی 2019 والی غلطیوں سے لیا سبق

نئی دہلی۔ دہلی میں اسمبلی الیکشن 2020 کے نتائج (Delhi Assembly Election 2020) اب دھیرے دھیرے واضح ہونے لگے ہیں۔ اب تک آئے رجحانات میں اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی 55 سے زائد سیٹوں پر آگے چل رہی ہے جبکہ بی جے پی 15 سے کم سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہے۔


عآپ کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اسمبلی الیکشن کے لئے انتخابی تشہیر کا آغاز بی جے پی کی طرف یہ سوال داغتے ہوئے کیا تھا کہ ’ کیا آپ کی پارٹی میں وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہے‘؟ تشہیر کے دوران پارٹی نے ٹینا فیکٹر کا خوب استعمال کیا جس کا مطلب کوئی متبادل نہیں ہے، ہے۔ عآپ نے اسی کے ارد گرد اپنی تشہیری مہم بنائے رکھی۔ ساتھ ہی عوام کے درمیان پچھلے پانچ سالوں میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی لوگوں کو جانکاری دی۔


وزیر اعلیٰ چہرے کو لے کر عآپ کے سوال سے بی جے پی کی ساری ذمہ داری نریندر مودی پر آ پڑی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ 6 سال کے اندر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وزیر اعظم مودی بی جے پی کے لئے ووٹ کھینچنے والے سب سے بڑے چہرہ ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کو کئی ایسے مواقع پر جیت دلائی ہے جہاں کوئی امید نہیں کر سکتا تھا۔

دلی کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے ذریعہ نریندر مودی کے چہرے پر الیکشن لڑنے کو لے کر عآپ نے لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ یہ قومی نہیں بلکہ ریاستی الیکشن ہے۔ قومی امور پر لوگوں نے کچھ ماہ پہلے بی جے پی کو مرکزی حکومت کے لئے ووٹ کئے ہیں۔

اتنا ہی نہیں، عآپ نے 2020 کے اس اسمبلی الیکشن میں کانگریس کے ذریعہ سال 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں کی گئی غلطی کو نہیں دہرایا۔ اس نے وزیر اعظم مودی پر براہ راست طور پر حملہ نہیں کیا۔ دہلی میں تشہیر کے ابتدائی مرحلے میں جہاں عام آدمی پارٹی نے ایجنڈا طئے کیا وہیں، بی جے پی کو بیچ راستے ہی میں اپنی حکمت عملی بدلنی پڑی۔ بی جے پی نے شاہین باغ پر نشانہ سادھا، بی جے پی نے کئی اشتعال انگیز نعروں کا استعمال کیا۔


اتنا ہی نہیں، ووٹنگ کے دن تک بی جے پی نے عام آدمی پارٹی پر نشانہ سادھنے میں کوئی کوشش نہیں چھوڑی۔ وہیں کانگریس کی بات کریں تو وہ تقریبا غائب ہی رہی۔ گزشتہ تین سال سے کانگریس شیلا دکشت کے نام پر ووٹ مانگ رہی تھی۔

سمت پانڈے کی تحریر
First published: Feb 11, 2020 01:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading