உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی اسمبلی انتخابات 2020: منوج تیواری نےکہا- بی جے پی اس وجہ سےنہیں دیتی ہےمسلمانوں کو ٹکٹ

    دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری۔ فائل فوٹو

    دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری۔ فائل فوٹو

    منوج تیواری (Manoj Tiwari) نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا- 'رامپور میں مختار عباس نقوی(Mukhtar Abbas Naqvi) کو نہیں جتایا۔ ہم انہیں راجیہ سبھا سے لاکر وزیربناتے ہیں۔ محسن بھائی کو ایم ایل سی(MLC) بناکرلائے ہیں۔ وہ یوپی میں وزیر ہیں۔

    • Share this:
    نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات 2020 (Delhi Assembly election 2020) میں ووٹنگ سے پہلے بی جے پی (BJP) اپنے انتخابی تشہیر میں جارحانہ رویہ اختیارکرچکی ہے۔ دہلی بی جے پی کے صدر (Delhi BJP President) منوج تیواری (Manoj Tiwari) ان دنوں تقریروں اور انٹرویو میں اپنے موقف کا اظہار کرکے پارٹی کے نظریے کو واضح کررہے ہیں اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے ایک ایسے سوال کا جواب بھی دیا ہے، جو سبھی الیکشن سے پہلے بی جے پی کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں بی جے پی پرمسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دینےکا الزام لگاتے رہے ہیں۔ اس کا جواب ہندی اخبار 'دینک بھاسکر' کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران منوج تیواری نےدیا۔

     جیت نہیں پاتے مسلم امیدوار

    جب منوج تیواری سے پوچھا گیا کہ کیوں بی جے پی نے دہلی اسمبلی انتخابات میں ایک بھی مسلم کو امیدوار نہیں بنایا؟ تو انہوں نے بتایا 'بی جے پی مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دے سکتی ہے، جہاں مسلم علاقے ہیں، لیکن ہم ٹکٹ دے دیتے ہیں تو وہ جیتتے ہی نہیں ہیں۔ اس لئے ہم دوسرا طریقہ اپناتے ہیں'۔ منوج تیواری نے ایک مثال دیتے ہوئےبتایا- 'رامپور میں مختارعباس نقوی (Mukhtar Abbas Naqvi) کو بھی نہیں جتایا، ہم انہیں راجیہ سبھا سےلاکر وزیر بناتے ہیں۔ محسن بھائی کو ایم ایل سی (MLC) بناکرلائے ہیں، وہ یوپی میں وزیر ہیں'۔

    دہلی اسمبلی انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دینے پر بی جے پی کے ریاستی صدر نے یہ بات کہی۔
    دہلی اسمبلی انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوارکو ٹکٹ نہیں دینے پر بی جے پی کے ریاستی صدر نے یہ بات کہی۔


    مسلمانوں میں ختم ہوا مودی راج کا خوف

    منوج تیواری نے مسلم طبقے کے لئے کئے گئے مرکزی حکومت کےکاموں کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نےکہا، 'ہم نے مسلم طبقےکو مودی حکومت کے پانچ سال کی مدت کارکے بارے میں مسلسل بتایا۔ 3.5 لاکھ مدارس کے بچوں کو وظیفہ دیا'۔ انہوں نےکہا 'مودی راج کا خوف دکھایا جارہا ہے۔ پانچ سال میں وہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ لوگوں کو اب بہکاوے میں نہیں آنا چاہئے۔ عوام جنہیں ہرا دیتی ہے، وہ خوف کے ذریعہ گڑبڑی پھیلاناچاہتے ہیں۔ اس سے ملک کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے'۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: