ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہتک عزت کیس : کیجریوال نے مجیٹھیا سے مانگی معافی ، جلد ہی وزیر خزانہ جیٹلی سے بھی کریں گے بات

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اپنے خلاف چل رہے ہتک عزت کے مقدمات کو اب ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے ہیں ، اس کیلئے کیجریوال سبھی متعلقہ لیڈروں سے باری باری بات کریں گے ۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہتک عزت کیس : کیجریوال نے مجیٹھیا سے مانگی معافی ، جلد ہی وزیر خزانہ جیٹلی سے بھی کریں گے بات
اروند کیجریوال ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی : دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اپنے خلاف چل رہے ہتک عزت کے مقدمات کو اب ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے ہیں ، اس کیلئے کیجریوال سبھی متعلقہ لیڈروں سے باری باری بات کریں گے ۔ جمعرات کو انہوں نے اس سلسلہ میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ہتک عزت کے ایک معاملہ میں اکالی دل کے لیڈر بکرم سنگھ مجیٹھیا سے تحریری طور پر معافی مانگ لی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اب کیجریوال جلد ہی وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے بھی بات چیت کریں گے۔

غورطلب ہے کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی ، وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری اور جے رام رمیشن سمیت کئی دیگر لیڈروں نے کیجریوال کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کررکھا ہے ۔ دہلی حکومت اور وزیر اعلی کے قریبی ذرائع کے مطابق ہتک عزت مقدمات کی سماعت کی وجہ سے عدالت میں کیجریوال کو روزانہ گھنٹوں برباد کرنا پڑرہا ہے ، جس کا اثر انتظامی کام کاج پر پڑ رہا ہے، اس لئے اب کیجریوال کی کوشش ہے کہ بات چیت اور معافی کے ذریعہ سبھی معاملات ختم کرلئے جائیں ، اسی کے تحت انہوں نے مجیٹھیا سے معافی مانگی ہے۔

دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال نے اکالی دل لیڈر بکرم سنگھ مجیٹھیا کو لکھا ہے کہ پنجاب الیکشن کے دوران انہوں نے مجیٹھیا پر ڈرگ کی تجارت میں شامل ہونے کے الزامات لگائے تھے ، جو کہ سیاسی معاملہ بن گیا ، لیکن اب انہیں سمجھ میں آیا ہے کہ ان سبھی الزمات کی کوئی بنیاد نہیں ہے ، ایسے میں ان معاملہ پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔

جمعرات کو اکالی دل کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر بکرم سنگھ نے پریس کانفرنس کرکے ایک خط دکھایا ۔ یہ خط عام آدمی پارٹی کے لیٹر پیڈ پر اروند کیجریول کی جانب سے لکھا گیا ہے ، جس میں کیجریوال نے مجیٹھیا سے پنجاب الیکشن کی تشہیر کے دوران ریلیاں ، ٹی وی مباحثے اور اخباروں میں دئے اپنے انٹرویو کے دوران مجیٹھیا اور ان کے کنبہ پر لگائے ڈرگ تسکری کے الزامات پر معافی مانگی ہے۔


First published: Mar 15, 2018 09:36 PM IST