உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اروند کیجریوال نے مظاہرہ کرنے والے کسانوں سے کی ملاقات، انتظامات کا لیا جائزہ

    اروند کیجریوال آج اپنی کابینہ کے ساتھ ہریانہ-دہلی سرحد سنگھو بارڈر پر کسانوں سے ملنے پہنچے: فوٹو اے این آئی

    اروند کیجریوال آج اپنی کابینہ کے ساتھ ہریانہ-دہلی سرحد سنگھو بارڈر پر کسانوں سے ملنے پہنچے: فوٹو اے این آئی

    اروند کیجریوال آج اپنی کابینہ کے ساتھ ہریانہ-دہلی سرحد سنگھو بارڈر پر کسانوں سے ملنے پہنچے۔ انہوں نے کسانوں سے ملاقات کرنے کے ساتھ ہی وہاں مہیا کرائی جارہی سہولیات کا جائزہ لیا اور کہا کہ ان کی حکومت کسانوں کی سیوادار ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ مرکزی حکومت کے زراعت سے جڑے تین قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کسانوں سے پیر کو دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے ملاقات کرکے کہا کہ ان کی حکومت کسانوں کی سیوادار ہے۔ تینوں قوانین کے خلاف کسان پچھلے 12 دن سے دہلی میں مقیم ہیں اور مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے کئی دور کی بات چیت کے باوجود کوئی حل فی الحال نہیں نکل پایا ہے۔ منگل کو کسانوں کی حمایت میں بھارت بند کا اعلان کیا گیا ہے اور مختلف سیاسی پارٹیوں اور کئی مزدور تنظیموں نے بند کو حمایت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی (آپ) نے بھی بند کی حمایت کی ہے۔ کسان دہلی کی سرحدوں پر دھرنے پر بیٹھے ہیں اور حکومت سے زرعی قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

      اروند کیجریوال آج اپنی کابینہ کے ساتھ ہریانہ-دہلی سرحد سنگھو بارڈر پر کسانوں سے ملنے پہنچے۔ انہوں نے کسانوں سے ملاقات کرنے کے ساتھ ہی وہاں مہیا کرائی جارہی سہولیات کا جائزہ لیا اور کہا کہ ان کی حکومت کسانوں کی سیوادار ہے۔ وزیراعلی نے میڈیا سے بات چیت میں کسانوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا،’’میری حکومت کسانوں کی سیوادار ہے ۔کسانوں کا مسئلہ اور ان کے مطالبات جائز ہیں۔ میں اور میری پارٹی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کسانوں کی تحریک شروع ہونے کے وقت دہلی پولیس نے ہم سے نو اسٹیڈیم کو جیل میں بدلنے کی اجازت مانگی تھی۔ میرے اوپر دباؤ بنایا گیا تھا لیکن میں نے اجازت نہیں دی۔ تب سے آپ کے سبھی رکن اسمبلی،کارکنان سیوادار بن کر کسانوں کی خدمت کررہے ہیں۔ میں خود بھی سیوادار بن کر یہاں آیا ہوں۔‘‘


      خیال رہے کہ حکومت اور مظاہرین کسانوں کے درمیان ہفتے کو پانچویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ رہی تھی۔ مرکز نے تعطل ختم کرنے کےلئے نو دسمبرکو پھر میٹنگ بلائی ہے۔

      کانگریس صدر سونیا گاندھی ،نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار ،مارکسی کمیونسٹ پارٹی(سی پی ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری ،دروڑ منیتر کشگم (ڈی ایم کے)کے سربراہ ایم کے اسٹالن اور گپکار انتخابی منشور اتحاد (پی اے جی ڈی) کے صدر فاروق عبداللہ سمیت اہم اپوزیشن لیڈروں نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان جاری کرکے کسان تنظیموں کے ذریعہ بلائے گئے ’بھارت بند‘ کی حمایت کی اور مرکز پر مظاہرین کے جائز مطالبات کو ماننے کےلئے دباؤ بنایا حالانکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) سے جڑے کسان سنگھ نے بند کی حمایت نہیں کی ہے۔ سنگھ نے کہا ہے کہ جب دونوں فریق نو دسمبر کو پھر سے بات چیت کرنے کے لئے متفق ہوئے ہیں تو پھر 8 دسمبر کو بھارت بند کے اعلان کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

      سنگھ نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ابھی تک کسان تحریک ڈسپلن کے حساب سے چلی ہے، لیکن تازہ واقعات کو توجہ میں رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ غیر ملکی طاقتیں، ملک غدار عناصر اور کچھ سیاسی پارٹیوں کی کوشش کسان تحریک کو انتشار کی طرف موڑ دینے کے لئے کوشاں ہے۔ بند کو 11 سیاسی پارٹیوں اور دس مرکزی ٹریڈ یونینوں کی حمایت حاصل ہے۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: