உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمر خالد کی ضمانت عرضی سے متعلق فیصلہ پھر ملتوی، اب 23 مارچ کو ہوگی اگلی سماعت

    عمر خالد کو اب ضمانت کے لئے 23 مارچ تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ دہلی کورٹ نے دہلی تشدد کے ملزم عمر خالد کی ضمانت عرضی پر فیصلہ 23 مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ اب اس معاملے پر آئندہ سماعت 23 مارچ کو شام چار بجے ہوگی۔

    عمر خالد کو اب ضمانت کے لئے 23 مارچ تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ دہلی کورٹ نے دہلی تشدد کے ملزم عمر خالد کی ضمانت عرضی پر فیصلہ 23 مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ اب اس معاملے پر آئندہ سماعت 23 مارچ کو شام چار بجے ہوگی۔

    عمر خالد کو اب ضمانت کے لئے 23 مارچ تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ دہلی کورٹ نے دہلی تشدد کے ملزم عمر خالد کی ضمانت عرضی پر فیصلہ 23 مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ اب اس معاملے پر آئندہ سماعت 23 مارچ کو شام چار بجے ہوگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: عمر خالد کو اب ضمانت کے لئے 23 مارچ تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ دہلی کورٹ نے دہلی تشدد کے ملزم عمر خالد کی ضمانت عرضی پر فیصلہ 23 مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ اب اس معاملے پر آئندہ سماعت 23 مارچ کو شام چار بجے ہوگی۔ پیر کو عدالت فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کو لے کر سماعت کر رہی تھی۔ ان فسادات میں ماسٹر مائنڈ کے طور پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم عمر خالد کا نام سامنے آیا تھا۔

      واضح رہے کہ تین مارچ کو کڑکڑ ڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) امیتابھ راوت نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ یہ دوسری بار ہے جب عمر خالد کی عرضی پر فیصلہ نہیں سنایا گیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت پہلے پیر کو فیصلہ سنانے والے تھے، لیکن انہوں نے اس معاملے کو بدھ کے لئے ملتوی کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی فیصلہ تیار نہیں ہے۔



      فروری 2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے دوران شمال مشرقی دہلی میں تشدد بھڑک گئی تھی۔ ان فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور 700 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس میں عمر خالد کا نام سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد عمر خالد پر دہشت گردی مخالف قانون کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پشکر سنگھ دھامی پھرسنبھالیں گے CM کی کرسی

      عمر خالد کے علاوہ سماجی کارکن خالد سیفی، جے این یو کی طالبہ نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا، جامعہ رابطہ کمیٹی کی رکن صفورا زرگر، عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین پر بھی معاملہ درج کیا گیا تھا۔

      عمر خالد کی طرف سے سینئر وکیل تردیپ پیس نے پہلے عدالت میں ترک دیا تھا کہ دہلی پولیس کے پاس نیوز چینل کی کلپ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

      نیہا چوہان کی رپورٹ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: