உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Omicron: اومی کرون کے پیش نظر دہلی میں 31 دسمبر تک کووڈ۔19 پابندیوں کا اعلان! اجتماعی سرگرمیوں کی اجازت نہیں

    جنوبی افریقہ میں کورونا کے نئے ویرینٹ کی اطلاع کے بعد کورونا پروٹوکال پر عمل ضروری ہے- (shutterstock)

    جنوبی افریقہ میں کورونا کے نئے ویرینٹ کی اطلاع کے بعد کورونا پروٹوکال پر عمل ضروری ہے- (shutterstock)

    ریستوران اور ہوٹلوں میں 50 فیصد بیٹھنے کی گنجائش رہے گی۔ ایک حکم میں ڈی ڈی ایم اے نے کہا کہ دہلی میں فی الحال اجازت حاصل کردہ اور محدود سرگرمیاں 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات (12 بجے) تک جاری رہیں گی۔

    • Share this:
      آنے والے چند دن پورے ملک کے لیے بہت حساس ہیں۔ کرسمس اور نئے سال کی بے لگام تقریبات کی وجہ سے ملک کے نظام صحت پر دباو پڑسکتا ہے۔ اسی لیے اس سال کے لیے انھیں محدود کرنا ضروری ہے۔ کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کے پیش نظر دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) نے بدھ کے روز 31 دسمبر کی آدھی رات تک کورونا سے متعلق پابندیوں کو بڑھا دیاہے۔ جس میں سماجی اور ثقافتی اجتماعات پر پابندی شامل ہیں۔

      ریستوران اور ہوٹلوں میں 50 فیصد بیٹھنے کی گنجائش رہے گی۔ ایک حکم میں ڈی ڈی ایم اے نے کہا کہ دہلی میں فی الحال اجازت حاصل کردہ اور محدود سرگرمیاں 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات (12 بجے) تک جاری رہیں گی۔

      ریستوراں والے مایوس: 

      کووڈ۔19 سے پہلے کے دور میں ہوٹل، بار، ریستوراں اور بینکوئٹ ہال کرسمس اور نئے سال کی شام کی تقریبات کے دوران محفلوں سے بھرے ہوتے تھے۔ اب دہلی حکومت کے اس فیصلے سے ریستوراں والے مایوس ہوئے اور کہا کہ وہ نئے سال کی شام اور کرسمس پر تقریبات منعقد کرکے وبا کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کی امید کر رہے ہیں۔
      بیئر کیفے کے مالک راہول سنگھ نے کہا ’’ملٹی پلیکس، سنیما ہال، بسیں ہر جگہ 100 فیصد گنجائش کی اجازت ہے۔ تو ہم نے اس کے مستحق ہونے کے لیے کیا کیا؟ یہ مایوس کن ہے۔ ہم اس نقصان سے نکلنے کی امید کر رہے تھے کہ صنعت کو وبا کے دوران نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن اب یہ مشکل نظر آرہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ کورونا وائرس کے اومی کرون کا خطرہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انفیکشن کے پھیلاؤ کے خوف سے بچنے کا واحد حل ریستوراں اور بار کو بند کرنا ہے؟

      ’’پابندی قدرے بہتر حل ہوسکتا ہے‘‘

      راستا اور یٹی کے شریک پارٹنر جوئے سنگھ نے کہا کہ ’’ہم نے کرسمس اور نئے سال کے لیے کچھ بکنگ کرائی ہے اور ہمیں کچھ صارفین کے پیسے واپس کرنے ہوں گے اور یہ ہمارے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔ یقیناً ریگولر کسٹمرز ہوں گے۔ بکنگ میں ترجیح دی جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایک بڑی تصویر کو دیکھتے ہوئے یہ قدرے بہتر حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہم وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں اور ایسی صورتحال کو روک سکتے ہیں جو مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر سکتی ہے تو یہ بہتر ہے۔

      شہر میں کورونا کی بہتر صورتحال کے ساتھ مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کے تحت ڈی ڈی ایم اے نے زیادہ تر سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم سیاسی، سماجی، ثقافتی، مذہبی اور اس طرح کے دیگر اجتماعات کی اب بھی اجازت نہیں ہے۔ بار اور ریستوراں پر بیٹھنے کی گنجائش کے 50 فیصد کی حد کے علاوہ میٹنگز، کانفرنسوں، نمائشوں اور شادیوں کے علاوہ دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے بینکوئٹ ہالز پر پابندی کو بھی جاری رکھا ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: